Urdu book · تجدید دین

اصلاحی و تجدیدی کوششیں

Urdu book, p. 69

By Maulana Wahiduddin Khan

اصلاحی و تجدیدی کوششیں دورِ جدید اور اس کے مقابلہ میں اسلام کے مسئلہ کا آغاز سولہویں صدی عیسوی میں ہوتا ہے جب کہ پرتگالیوں نے یورپ اور ہندوستان کے درمیان سمندری راستہ دریافت کرکے بحرِ ہند اور بحرِ عرب پر قبضہ کر لیا اور عربوں کی تجارت مشرقی ایشیا سے کاٹ دی۔ سترہویں صدی میں اسٹیم انجن کی دریافت اور اٹھارویں صدی میں جدید سائنس کا وجود میں آنا یورپ کے لئے طاقت کا نیا میدان کھل جانے کے ہم معنی تھا۔ اس کے بعد 1869 میں جب نہرِ سوئز بنی اور اس نے بحر روم اور بحرِ احمر کے درمیان سیدھا راستہ کھول دیا تو عالم اسلام پر مغرب کے غلبہ کا عمل اپنی انتہاء کو پہنچ گیا۔ جب تک یہ عمل تجارتی منڈیوں پر قبضہ اور غیر سیاسی میدانوں میں نفوذ کی صورت میں ہورہا تھا، لوگ اس سے بے خبر رہے۔ مسلم رہنماؤں کو اس واقعہ کی خبر صرف اس وقت ہوسکی جب اس نے اپنے استیلاء کو مکمل کرکے عالمِ اسلام کے اوپر اپنا سیاسی جھنڈا لہرا دیا ۔ انیسویں صدی کے آخر میں دنیا میں مختلف قسم کی تحریکوں کا ظہور ہوتا ہے۔ مگر اس پوری مدت میں جو بے شمار تحریکیں مسلمانوں کے درمیان اٹھیں، تقریباً سب کی سب ردِ عمل کی نفسیات کے تحت اٹھنے والی تحریکیں نظر آتی ہیں۔ ان میں کوئی تحریک ایسی نہیں ملتی جو ایجابی فکر کے تحت پیدا ہوئی۔ خارجی طاقت کی دراندازی نے مسلم معاشرہ کے لئے جو مسائل پیدا کیے، ان سے متاثر ہو کر کچھ لوگ بس جوابی ذہن کے تحت اٹھ کھڑے ہوئے ۔ وہ اصلا ً خارجی حالات کی پیدا وار تھے نہ کہ اسلامی تعلیمات اور سیرتِ رسول پر مثبت غور و فکر کی پیداوار ۔ ردِ عمل کی یہ نفسیات جن جن صورتوں میں ظاہر ہوئی، ان کو سمجھنے کے لئے ہم چار عنوانات کے تحت ان کا مطالعہ کر سکتے ہیں : 1۔ مقابلہ آرائی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page