Urdu book · تجدید دین

کار تجدید

Urdu book, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے کہ رسول خدا والے طریقہ کو پکڑنے والا آدمی خود اپنے معاشرہ میں بے جگہ ہو جاتا ہے۔ وہ سب کے درمیان ایک غیر مطلوب شخص بن جاتا ہے۔ بگاڑ کے زمانہ میں یہ ہوتا ہے کہ وقتی اور رسمی عملیات کو لوگ جنت کا ٹکٹ سمجھ لیتے ہیں، اس کے مقابلہ میں سنتِ رسول کو پکڑنے والا آدمی حقیقی اعمال پر جنت کا مدار رکھتا ہے۔ لوگ مذہبی مناظرے اور سیاسی مجادلے کے مشغولن کو دینی کا رنامہ سمجھنے لگتے ہیں، وہ بتاتا ہے کہ صبر اور قربانی کے طریقوں کو اختیار کرنے کا نام دین ہے۔ لوگ اپنے دنیوی ہنگاموں کو دین کا عنوان دیئے ہوئے ہوتے ہیں، وہ کہتا ہے کہ آخرت کے لیے جینے اور مرنے کا نام دین ہے۔ لوگ اخبار ورہبان کے دین کو پکڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ دین وہ ہے جو خدا اور رسول سے ملا ہو۔ لوگ اپنے بزرگوں کے ارشادات وملفوظات سے لپٹے ہوئے ہوتے ہیں، وہ کہتا ہے کہ قرآن وسنت والے دین کو اپنا دین کو بناؤ، لوگ قصے کہانیوں کے ذریعہ اپنا ایک دینی ایڈیشن تیار کرکے اس کی تلاوت میں مشغول ہوتے ہیں، وہ کہتا ہے کہ اس کے بجائے محکم آیات اور ثابت شدہ سنت رسول پر اپنے دین کی بنیاد رکھو۔ لوگ اپنے طور پر مختلف قسم کی مذہبی موشکافیوں ایجاد کرتے ہیں اور اس کو دین کا قائم مقام بنالیتے ہیں، وہ کہتا ہے کہ اس صاف اور سیدھے دین کو اختیار کروجو خدا اور رسول نے بتایا ہے اور جو اصحاب رسولؐ کے ذریعہ ہم کو پہنچا ہے۔ جو شخص اس قسم کا دین بگڑے ہوئے زمانہ میں لے کر اٹھے وہ لوگوں کی نظر میں کافرو مشرک سے بھی زیادہ مبغوض ہو جاتا ہے۔ کیوں کہ وہ ان کی دینی حیثیت کو بے بنیاد ثابت کرتا ہے۔ اس سے ان کو اپنی قیادت پر ضرب پڑتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ اس سے ان کے معاشی مفادات درہم برہم ہوتے ہیں۔ اس سے ان کی گدّیاں چھنتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ اس کو ماننا اپنے آپ کو جے ہوئے مفادات سے محروم کرنے کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ ایسا شخص ایک طرف عوام کی عافیت کوش زندگی کے لئے تازیانہ بن جاتا ہے اور دوسری طرف خواص کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ ان کے شہ سوار اسلام ہونے کو مشتبہ بنا رہا ہے۔ یہ چیزیں اس شخص کو اتنی بے شمار قسم کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page