Urdu book · تجدید دین

اصلاحی و تجدیدی کوششیں

Urdu book, p. 70

By Maulana Wahiduddin Khan

2- تحفظ 3- احیاء 4- تعمیر و استحکام مقابلہ آرائی کے ذہن نے آزادی کی تحریکوں کی صورت اختیار کی ۔ سید جمال الدین افغانی (1897- 1938) سے لے کر ابوالکلام آزاد (1958- 1988) تک بے شمار ایسے قائدین پیدا ہوئے جنھوں نے اپنی تقریروں اور تحریروں سے پوری مسلم دنیا کو جوش و خروش سے بھر دیا۔ جمال الدین افغانی کا نعرہ تھا: مصر للمصريين (مصر مصریوں کے لئے) لیبیا میں اٹلی کے سیاسی اقتدار (43- 1911) کے زمانہ میں سلیمان البارونی نے آواز لگائی: موتوا اليوم اعزاء قبل ان تموتوا غداً اذلاء (آج عزت کے ساتھ مرجاؤ قبل اس کے کہ کل تم ذلت کے ساتھ مرو) الفاظ بدل کر اس دور کے تمام سیاسی لیڈروں کا نعرہ یہی تھا۔ کروڑوں لوگوں نے اجنبی اقتدار سے رہائی حاصل کرنے کے نام پر اپنی جانیں دے دیں اور کھربوں روپے کے نقصانات کو برداشت کیا۔ آج یہ جدوجہد، اپنے مقررہ نشانہ کے مطابق تقریباً تمام ملکوں میں کامیاب ہو چکی ہے اگر چہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ جس چیز نے مغربی استعمار سے آزادی کی جدوجہد کو کامیاب بنایا وہ بڑی حد تک خود مستعمرین کی باہمی لڑائیاں تھیں، جزئی طور پر جنگِ عظیم اول (18- 1914) اور زیادہ بڑے پیمانے پر جنگِ عظیم ثانی (44- 1939) تاہم آزادی کی تحریکوں کی کامیابی ان امیدوں کو پورا نہ کر سکی جن کے لئے الجزائر میں تقریباً 25 لاکھ اور ہندوستان میں دو لاکھ مجاہدین نے اپنے کو قربان کر دیا تھا۔ مسلم قوموں پر مغربی قوموں کا غلبہ آج بھی بدستور باقی ہے، صرف اس فرق کے ساتھ کہ پہلے یہ غلبہ فوجی اور سیاسی معنوں میں تھا، اب اس نے اقتصادی اور صنعتی روپ اختیار کر لیا ہے۔ یہ دوسرا غلبہ اتنا شدید ہے کہ مسلم ملکوں کی سیاسی پالیسیاں بھی حقیقی معنوں میں آزاد پالیسیاں نہیں ہیں۔ وہ عملاً انہیں مغربی قوموں کے ہاتھ میں ہیں جن سے ہتھیار خرید کر وہ اپنا دفاع کرتے ہیں، جن کی تکنکل امداد سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page