Urdu book · تجدید دین

اصلاحی و تجدیدی کوششیں

Urdu book, p. 71

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ اپنے تمدنی شعبوں کو چلا رہے ہیں۔ ان کے اثرات اب بھی اتنے گہرے ہیں کہ وہ جب چاہیں احمد وبلو (1966) یا شاہ فیصل (1975) کو قتل کردیں اردن (1971) اور شام (1976) کے ہاتھوں فلسطینی تحریک کو کچل ڈالیں ۔ ایران کے عوامی انقلاب (1951) کونا کام بنا دیں۔ مصر کو اپنے اس دشمن سے سمجھوتہ کرنے پر مجبور کردیں جس کے بارہ میں جمال عبد الناصر (1970_1918) نے فخریہ کہا تھا : نحن ابناء الفراعنة سنرميكم في البحر (ہم فرعون کی اولاد ہیں، ہم تم کو سمندر میں پھینک دیں گے)۔ وغیرہ 2 تحفظ کی تحریکوں نے عام طور پر تعلیم دین کا رخ اختیار کیا۔ مولانا شبلی نعمانی (1914_1857) نے دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں اپنی تقریر میں کہا تھا کہ: ”دوسری قوموں کی ترقی یہ ہے کہ وہ آگے بڑھیں، آگے بڑھیں۔ ہماری ترقی یہ ہے کہ پیچھے ہٹیں پیچھے ہٹیں۔ یہاں تک کہ دورِ نبوت سے جاملیں۔“ اس ذہن کے تحت تمام ملکوں میں بے شمار مدارس قائم کیے گئے۔ ان مدارس کا مقصد یہ تھا کہ مسلم نسلوں کو عربی زبان اور اسلامی علوم کی تعلیم دی جائے اور ان کو، کم از کم ذہنی حیثیت سے، دورِ نبوت تک پہنچا دیا جائے۔ توقع یہ تھی کہ جو لوگ ان مدارس میں تربیت پا کر نکلیں گے، وہ زمانہ کے اثرات سے اپنے کو بچانے کے لائق بن سکیں گے۔ یہ تحریک ان معنوں میں پوری طرح کامیاب رہی کہ اس نے ساری مسلم دنیا میں دینی مدرسوں کا جال بچھا دیا اور کوئی بستی نہ رہی جو ان درسگاہوں میں تعلیم پائے ہوئے علماء و فضلاء سے خالی ہو۔ مگر جہاں تک اسلامی ذہن اور اسلامی طرزِ فکر کا سوال ہے، ان مدارس کی کامیابی حد درجہ مشکوک ہے۔ ان مدارس سے فراغت کے بعد جن خوش نصیبوں کو خود ان مدارس یا ان سے ملتے جلتے کسی ادارہ میں جگہ مل گئی، انھوں نے بلاشبہ مدرسہ کے دیئے ہوئے ظاہری لبادہ کو باقی رکھا۔ کیونکہ ان اداروں میں قیام و ترقی کے لئے یہی لبادہ ان کی قیمت تھی، مگر جن لوگوں کے حالات انہیں ان اداروں سے باہر لے گئے، وہ کسی بھی معنی میں غیر دینی مدارس کے فارغین سے مختلف ثابت نہ ہو سکے۔ کیریرزم (careerism) ان کا دین بھی رہا اور اُن کا دین بھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page