اصلاحی و تجدیدی کوششیں
Urdu book, p. 72
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کی دو بڑی وجہیں ہیں۔ اول یہ کہ دینی تعلیم کے رہنما اس واقعہ کا پوری طرح اندازہ نہ کرسکے کہ اسلامی تعلیم کا مسئلہ ، موجودہ زمانہ میں ، صرف اسلامی زبان یا اسلامی احکام سے واقف کرانے کا مسئلہ نہیں ہے۔ بلکہ نظام حاضر کے فکر میں اسلام کو اس کی جگہ دلانے کا مسئلہ ہے۔ انھوں نے اپنے اداروں میں جو نسل تیار کی، وہ اگرچہ اسلام کے روایتی علوم کی ماہر تھی، مگر اسلام اس کے حقیقی ذہن کا جزء نہیں بنا تھا۔ کیونکہ وہ اس کو اس فکری مستویٰ کے مطابق دکھائی نہیں دیتا تھا جس کے اندر وہ عملاً سانس لے رہا تھا۔ جو اسلام اسے دیا گیا وہ اس کے لئے ایک قسم کا معلوماتی ضمیمہ تھا نہ کہ فکری غذا۔ ظاہر ہے کہ عالمی افکار کے سیلاب میں کوئی شخص اس قسم کے ذہنی ضمیمہ کو دیر تک باقی نہیں رکھ سکتا۔ دوسرے یہ کہ جدید تبدیلیوں نے مروجۂ دینی تعلیم کا رشتہ اقتصادیات سے کاٹ دیا تھا۔ اور یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ کوئی تعلیمی نظام جو اقتصادی بنیادوں سے محروم ہو، زندگی کے نظام میں مؤثر مقام حاصل نہیں کرسکتا۔ 3۔ احیاء کی تحریکوں سے میری مراد وہ تحریکیں ہیں جو اسلامی نظام کے قیام کا مقصد لے کر اٹھیں۔ انڈونیشیا کی ماشومی پارٹی، مصر کی الاخوان المسلمون، پاکستان کی جماعت اسلامی اس کی مثالیں ہیں۔ ان تحریکوں کا کہنا تھا کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو جتنے مسائل پیش آ رہے ہیں، وہ صرف اس لئے ہیں کہ اسلامی قانون کی حکومت زمین پر قائم نہیں ہے۔ اگر مسلم ملکوں میں اسلامی قانون کی بنیاد پر معاشرہ کی تنظیم کردی جائے تو نہ صرف ہمارے تمام اندرونی مسائل حل ہوجائیں گے بلکہ عالمی سطح پر مسلمان دوبارہ وہی مقام حاصل کر لیں گے جو ماضی میں ایک ہزار برس تک انہیں حاصل تھا۔ ان تحریکوں نے اسلام کی تعلیمات کو جس طرح سیاسی اصطلاحوں میں بیان کیا وہ، خاص طور پر موجودہ صدی کے نصف اول کے ماحول میں ، بہت سے مسلمانوں کو اسلام کے حق میں وقت کا بہترین قصیدہ معلوم ہوا۔ وہ سیاسی مشاعرہ کے اس اسلامی پنڈال میں آسانی سے جمع ہوگئے۔ تاہم یہ مشاعرہ دیر تک باقی نہ رہ سکا۔ ان تحریکوں کا ذہن بچوں کہ اسلام کی سیاسی تشریح

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader