Urdu book · تجدید دین

اصلاحی و تجدیدی کوششیں

Urdu book, p. 73

By Maulana Wahiduddin Khan

سے بنا تھا، قدرتی طور پر ایسا ہوا کہ وہ بہت جلد اپنے ملکوں کی ”غیر اسلامی حکومتوں سے ٹکرا گئیں۔ یہ ٹکراؤ ہر ایک کے حق میں چھری اور خربوزے کا ٹکراؤ ثابت ہوا۔ مصر کے انور السادات نے اقتدار پر قبضہ (1971) کے بعد اپنے سیاسی حریفوں کو انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ جو میری مخالفت کرے گا، میں اس کو قیمہ بنا دوں گا (حآفرمَه) مسلم حکمرانوں کے یہ ادارے سب سے زیادہ جن کے حق میں صحیح ثابت ہوئے ہیں، وہ یہی اسلامی نظام کی علم بردار جماعتیں ہیں۔ انھوں نے ہر ملک میں ان جماعتوں کو قیمہ بنا کر رکھ دیا ہے، اب کسی بھی ملک میں ان کا کوئی سیاسی مستقبل نہیں۔ اسلامی نظام کی علم بردار جماعتوں کی یہ ناکامی محض ان کے سیاسی حریفوں کی شقاوت کا نتیجہ نہیں ہے۔ اس میں خود ان کے رہنماؤں کا یہ انتہائی غلط اندازِ شامل ہے کہ انھوں نے سمجھا کہ وہ مقامی مسلمانوں کے ووٹ سے اسلامی حکومت بنانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ وہ اس تاریخی حقیقت کو بھول گئے کہ حکومتیں ہمیشہ وقت کے غالب افکار کے جلو میں بنتی ہیں۔ موجودہ زمانہ کا فکری ڈھانچہ تمام تر سیکولر بنیاد پر قائم ہے۔ ایسی حالت میں کسی کے لیے ممکن نہیں ہے کہ وہ اپنے ملک میں اسلام کا سیاسی جزیرہ بنا سکے، جب تک وہ زمانی افکار کے ڈھانچہ کو توڑنے میں کامیاب نہ ہو گیا ہو۔ 4۔ تعمیر واستحکام سے میری مراد وہ فکری حلقہ ہے جس کا کہنا یہ تھا کہ اجنبی اقتدار سے براہِ راست سیاسی تصادم نہ کیا جائے۔ اس کو بطور چھتری استعمال کرتے ہوئے غیر سیاسی دائروں میں اپنے کام کو جاری رکھا جائے۔ بدقسمتی سے یہی وہ ذہن ہے جو موجودہ دور کے مسلمانوں میں سب سے کم پایا گیا ہے۔ مفتی محمد عبدہ نے پیرس میں زمانہ قیام (1884) سے متعلق اپنے استاد جمال الدین افغانی کا ایک تاثر نقل کیا ہے۔ محمد عبدہ نے ایک گفتگو کے دوران اپنے استاد سے کہا کہ انگریزوں اور فرانسیسیوں سے سیاسی تصادم کا بظاہر کوئی فائدہ دکھائی نہیں دیتا۔ جب کہ دوسری طرف ہمارے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page