اصلاحی و تجدیدی کوششیں
Urdu book, p. 74
By Maulana Wahiduddin Khan
لیے کام کا ایک ایسا میدان کھلا ہوا ہے جس میں ہم یقینی نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ ہے یورپ اور امریکہ میں اسلام کی تبلیغ ۔ ہم کیوں نہ ایسا نہ کریں کہ اپنے کو سیاسی نشانہ سے ہٹا دیں اور خاموشی سے تبلیغ و تعلیم کے کام میں لگ جائیں ۔ جمال الدین افغانی کی انقلابی طبیعت کو یہ تجویز حقیر معلوم ہوئی۔ انھوں نے کہا: ۱ انما انت مثبط ( تم پست حوصلگی کی باتیں کرتے ہو ) اس پورے دور میں تعمیر واستحکام کے مقصد کے تحت اٹھنے والی کوئی قابل لحاظ تحریک نہیں آتی ۔ مسلم رہنماؤں کا حال یہ رہا کہ وہ۔'' زمانہ با تو نساز دتو با زمانه ستیز‘‘ جیسے رومانی تصورات پر فندا ہوتے رہے، کسی کی سمجھ میں وہ حقیقت پسندانہ طریق کار نہ آسکا جس کو بدنام طور پر حالی ( 1914۔ 1817) نے ان لفظوں میں بیان کیا تھا: چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی۔ ہندوستان میں اس سلسلہ میں دو مستثنیٰ مثالیں ملتی ہیں، وہ بھی بدنام شخصیتوں کی۔ میری مراد سرسید احمد خاں ( 1898۔ 1817) اور مرزا غلام احمد قادیانی ( 1908۔ 1840) سے ہے۔ اول الذکر کا کہنا تھا کہ انگریز نے اگرچہ سیاسی کام کا راستہ بند رکھا ہے مگر سیاست کے علاوہ دوسرے میدانوں میں تعمیر و ترقی کے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔ حکومت نے آزادیاں تم کو دی ہیں ترقی کی راہیں سراسر کھلی ھیں تعلیم اور اقتصادیات ، جو بقیہ چیزوں کی اساس ہے، ان میں ہم کسی رکاوٹ کے بغیر آگے بڑھ سکتے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اسی امکان کو ایک اور میدان میں تلاش کیا۔ یہ دعوت و تبلیغ کا میدان تھا۔ ان کا خیال تھا کہ دعوت کی راہ سے ، ہم نہ صرف ملک کے طبقات میں اپنے لئے کام کے مواقع پاسکتے ہیں بلکہ حکمران قوم کے اندر بھی ہمارے لئے جدوجہد کا میدان کھلا ہوا ہے۔ مزید یہ کہ یہ کام خود اسلام کا اہم ترین مقصود ہے اور بالاخر اس غلبہ تک بھی پہنچانے والا ہے جہاں ہم سیاسی زور آزمائی کے ذریعہ نا کام طور پر پہنچنا چاہتے ہیں۔ یہ دونوں تحریکیں، اپنی ابتدائی شکل میں مفید اور دور رس تحریکیں تھیں ۔ مگر بدقسمتی سے وہ عام مسلمانوں کو اپنے ساتھ نہ لے سکیں۔ اس کی وجہ دوطرفہ تھی۔ ایک طرف ہمارے رہنماؤں کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader