Urdu book · تجدید دین

اصلاحی و تجدیدی کوششیں

Urdu book, p. 75

By Maulana Wahiduddin Khan

ذہن سامراج دشمن خیالات سے اتنا زیادہ ماؤف ہو چکا تھا کہ کسی اور انداز سے سوچنا ان کے لیے ممکن نہ رہتا تھا۔ ہر وہ شخص انہیں سامراج کا ایجنٹ دکھائی دیتا تھا جو سامراج سے سیاسی مقابلہ کی بات نہ کرے۔ اس کی آخری حد یہ ہے علی گڑھ کے سابق استاد پروفیسر آرنلڈ کی قیمتی کتاب پر بچنگ آف اسلام ہمارے رہنماؤں کو سامراجی اغراض کے تحت لکھی ہوئی کتاب نظر آئی۔ کیونکہ اس میں تلوار کے بجائے پرامن تبلیغ کو اسلام کی اشاعت کا ذریعہ بتایا گیا تھا! دوسری وجہ یہ ہوئی کہ اس نظریہ کے دونوں علم بردار اس اہلیت کا ثبوت نہ دے سکے کہ وہ اپنے نقطہء نظر کی صحیح وکالت کر سکتے ہیں۔ سرسید احمد خاں نے اپنے موقف کی حمایت کے لئے یہ نادانی کی کہ قرآن کو انیسویں صدی کے مغربی افکار پر ڈھالنا شروع کر دیا۔ ان کے اخلاص کے ثبوت کے لئے یہ کافی ہے کہ انھوں نے ’’تہذیب الاخلاق‘‘ کو اپنے ذاتی فکر کا نمائندہ قرار دے کر اس کو علی گڑھ کالج سے علیحدہ رکھنے کی کوشش کی۔ مگر یہ تقسیم عملی طور پر ممکن نہ ہو سکی اور ایک صحیح کام کے لئے غلط استدلال نے ان کے مشن کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ بنا دیا۔ اسی قسم کی غلطی شدید شکل میں مرزا غلام احمد قادیانی نے کی۔ انھوں نے اپنے کام کا آغاز کیا تو یہ وہ وقت تھا جبکہ سارے مسلم رہنما انگریز کے خلاف جہاد حریت میں مصروف تھے۔ ان پرجوش مجاہدین کو محسوس ہوا کہ قادیانی مشن مسلمانوں کو مقدس جہاد کے محاذ سے ہٹا کر پرامن تبلیغ کے میدان میں لگا دینا چاہتا ہے۔ مرزا صاحب نے اس کے جواب میں کہا کہ جہاد (بمعنی سیاسی مقابلہ) کوئی مستقل شرعی حکم نہیں ہے۔ وہ صرف دفاعی ضرورت کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ مگر ہمارے مجاہدین حریت کے لیے یہ جواب تشفی بخش ثابت نہ ہو سکا۔ انھوں نے فتوی دیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی انگریزوں کا ایجنٹ ہے۔ اب مرزا صاحب نے ایک اور قدم بڑھایا۔ انھوں نے اپنی بات کو مستند ثابت کرنے کے لیے کہنا شروع کیا کہ ان پر وحی آتی ہے اور وہ جو کچھ بولتے ہیں خدا کی طرف سے بولتے ہیں۔ یہ دعویٰ اپنی تمام تر غلطی کے باوجود، قدیم زمانہ میں انوکھا نہ تھا۔ کیونکہ ہمارے بہت سے بزرگ، مثال کے طور پر شاہ ولی اللہ (1762 - 1703)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page