Urdu book · تجدید دین

علومِ اسلامی کی تدوین

Urdu book, p. 77

By Maulana Wahiduddin Khan

علوم اسلامی کی تدوین عقبہ بن نافع تابعی (63ھ) یزید بن معاویہ کی خلافت کے زمانے میں افریقہ میں اسلامی فوجوں کے سپہ سالار تھے۔ وہ مغربی افریقہ کے ملکوں کو فتح کرتے ہوئے اٹلانٹک کے ساحل تک پہونچ گئے۔ شہر اسفی ان کی آخری منزل تھی۔ وہاں انھوں نے اپنا گھوڑا سمندر میں ڈال دیا اور اس کے پانی میں کھڑے ہو کر کہا: اللهم انی لواعلم وراء هذا البحر بلدا لخضته اليه حتى لا يعبد احد دونك خدایا اگر میں جانتا کہ اس سمندر کے اُس پار بھی کوئی ملک ہے تو میں سمندر میں گھس کر وہاں جاتا یہاں تک کہ تیرے سوا کس کی عبادت نہ کی جائے۔ وہ لوگ جو دورِ اول میں قرآن پر ایمان لائے، اور جنھوں نے براہِ راست پیغمبر خدا سے تربیت حاصل کی تھی، ان کے اندر سب سے زیادہ ابھرا ہوا جذبہ یہی تھا کہ وہ خدا کے پیغام کو خدا کے تمام بندوں تک پہنچا دیں۔ ان کا یہ جذبہ اس وقت تک تھمتا ہو انظر نہ آتا تھا جب تک سارے جہان کے لوگوں کو اللہ کا بندہ نہ بنالیں۔ بعد کی صدیوں میں اسلام کی تاریخ کا مطالعہ کرنے والا انتہائی حیرت کے ساتھ دیکھتا ہے کہ یہ جذبہ دھیرے دھیرے ختم ہوگیا۔ قریبی صدیوں میں جب اسلام کو زوال ہوا تو اس کو از سرِ نو زندہ کرنے کے لئے کتنی ہی عالیشان تحریکیں اٹھیں۔ مگر کوئی بھی قابلِ ذکر تحریک دعوت الی اللہ کے مقصد کو لے کر اٹھنے والی نہیں ملتی۔ جو قرآن صحابہ و تابعین نے پڑھا تھا، وہی قرآن بعد کے لوگوں نے بھی پڑھا ۔ پھر کیا وجہ ہے کہ جس قرآن نے اپنے اولین مخاطبین کے اندر دعوت اسلام کی آگ لگا دی تھی وہی قرآن بعد کے لوگوں کو دعوت کے عنوان پر کھڑا کرنے کا باعث نہ بن سکا۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page