علومِ اسلامی کی تدوین
Urdu book, p. 78
By Maulana Wahiduddin Khan
صدر اول میں قرآن براہِ راست طور پر لوگوں کے لئے علمِ دین کا ماخذ تھا۔ جب کہ بعد کے دور میں وہ انسانوں کے پیدا کردہ علوم کے ہالہ میں چھپ گیا۔ قرآن ایک اساسی کتاب ہے جس میں دین کے تمام بنیادی مسائل بتائے گئے ہیں۔ اب ضرورت ہے کہ ان اساسات کی بنیاد پر اس کی مزید تبیین (نحل_44) کر کے اس کو لوگوں کے لئے یسیر الفہم بنا دیا جائے اس تبیین کا واضح نمونہ سنتِ رسول اللہ میں موجود تھا۔ مگر بعد کے دور میں قرآن کی تبیین و تفصیل نے سنت کے سادہ طریقہ کے بجائے فنی طریقہ اختیار کر لیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سیدھے سادے دینِ محمدی کے بجائے ایک پیچیدہ قسم کا متوازی دین وجود میں آ گیا جس کا تانا بانا فقہی اصطلاحات، متکلمانہ موشکافیوں اور صوفیانہ اسرار و رموز سے تیار ہوا تھا۔ تابعین، جنھوں نے اصحابِ رسول سے دین کو پایا تھا، انھوں نے دین کو اس طرح فن بنانے پر سخت احتجاج کیا۔ ان کے نزدیک یہ یہود و نصاری کی نقل تھی نہ کہ سنتِ محمدی کی پیروی۔ مگر عوام اور حکمران چوں کہ کیفیاتِ دین سے خالی ہو چکے تھے، اس لئے ٹیکنکل دین ان کے زیادہ حسبِ حال تھا، ان کی تائید کے زور پر وہ بڑھتا رہا۔ تاریخ کا تجربہ ہے کہ جب طویل مدت گزر جائے تو ماضی کی ہر چیز مقدس بن جاتی ہے۔ چنانچہ وقت گزرنے کے ساتھ اس متوازی دین میں تقدس کا عنصر بھی شامل ہوتا چلا گیا۔ حتی کہ اب کوئی شخص یہ سوچ نہیں سکتا کہ فقہ کی کتابوں میں کوئی مسئلہ ایسا بھی ہو سکتا ہے جو قرآن و سنت کی منشا کے مطابق نہ ہو۔ صوفیاء کے ملفوظات اور قصوں میں کسی غلطی کا بھی امکان ہے۔ یا مروجۂ معقولات میں بھی کوئی ایسی چیز ہوسکتی ہے جس کو غیر معقول کہا جائے___ اس کے بعد قرآن کو جہاں جگہ مل سکتی تھی، وہ صرف برکت کا خانہ تھا۔ وہ برکت کی حیثیت سے کتابِ تلاوت بن کر رہ گیا۔ حتی کہ جن لوگوں نے قرآن کی تفسیریں لکھیں، ان کے سامنے یا تو’’ثواب‘‘ حاصل کرنا تھا یا یہ تھا کہ فقہ، تصوف یا معقولات میں اپنے مخصوص نقطہ نظر کو خدا کی کتاب سے ثابت کر دکھائیں، الا ماشاءاللہ۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ فقہ اور تصوف اور علمِ کلام کی شکل میں جو اضافے اسلام میں ہوئے، ان کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader