علومِ اسلامی کی تدوین
Urdu book, p. 79
By Maulana Wahiduddin Khan
سب سے بڑا نقصان یہ تھا کہ قرآن کا سر امت کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ ان اضافوں نے دین کو ایک قسم کافن بنا دیا۔ کتاب الہی میں جو چیز سادہ اور فطری انداز میں بتائی گئی تھی، اس میں اپنی طرف سے موشگافیاں کر کے نئے نئے مسئلے پیدا کئے اور بطور خود بے شمار اصطلاحات وضع کیں تا کہ ان کو فنی انداز میں بیان کیا جا سکے ۔ اس طرح دین خداوندی ایسے احکام ومسائل کا مجموعہ بن گیا جو صرف فنی کتابوں کے مطالعہ سے جانا جا سکتا ہو کتاب الہی کے ذریعہ اس کو معلوم کرنا ممکن نہ ہو۔ آج کسی کو نماز کے ’’مسائل‘‘ جاننا ہوں تو اس کے حاشیہء خیال میں بھی یہ بات نہیں آتی کہ وہ اس مقصد کے لئے قرآن کا مطالعہ کرے ۔ کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ نماز کے مسائل تو فقہ کی کتابوں میں ملیں گے۔ کسی کو روحانی ترقی مطلوب ہو تو اس کو بھی یہ خیال نہیں آئے گا کہ خدا کی کتاب لے کر بیٹھے اور اس میں روحانی سلوک کے طریقے تلاش کرے ۔ وہ صرف یہ کرتا ہے کہ کسی ’’بزرگ‘‘ کے پاس پہونچ جاتا ہے کیوں کہ اس کے ذہن میں یہ بات بیٹھی ہوئی ہے کہ فن روحانیت کے آداب تو فن روحانیت کے کسی ماہر ہی سے معلوم کیے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح کسی کو یہ شوق ہو کہ وہ اسلام کی دعوت کو عقلی طور پر مدلل کرے تو وہ قرآن میں اس کے نکتے نہیں ڈھونڈے گا بلکہ معقولات میں غرق ہو جائے گا ۔ کیوں کہ وہ جانता ہے کہ اس فن کی باریکیاں صرف معقولات کی کتابوں سے حاصل کی جا سکتی ہیں ــــ قرآن اس لئے اتارا گیا تھا کہ لوگ اس میں تدبر (ص :29) کر کے اپنے لئے رہنمائی حاصل کریں ۔ مگر قرآنی تعلیمات کو فن بنانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ قرآن کتاب تدبر نہ رہا ، کتاب تلاوت بن گیا جس کا آخری استعمال یہ تھا کہ اس کو ہر روز یا ہر ہفتہ بس ’’ختم‘‘ کر لیا جایا کرے ۔ لوگ اپنے دین کو اپنے اخبار اور بہان سے اخذ کرنے لگے اور قرآن کو برکت کی حیثیت سے جزو دان میں لپیٹ کر رکھ دیا۔ ایسا ہونا بالکل فطری تھا۔ کیوں کہ جن نکتوں اور موشگافیوں کو انھوں نے دین سمجھ رکھا تھا، وہ قرآن کے اندر موجود ہی نہ تھے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader