Urdu book · تجدید دین

علومِ اسلامی کی تدوین

Urdu book, p. 80

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا کی کتاب سے محرومی کا یہ معاملہ اسی حد پر نہ رہا بلکہ وہ ہماری پوری زندگی پر چھا گیا۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے تمام ضروری امور کی تفصیل بیان کردی ہے (اسراء: 13) وہ ہر معاملہ مومن کی ذہنی غذا ہے۔ مگر مذکورہ عمل کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ ذہن ہی ختم ہو گیا کہ اسلام اور ملتِ اسلام کے تمام مسائل کو ہم قرآن میں تلاش کریں، قرآن کو خالی الذہن ہو کر دیکھے تو بلا اشتباہ نظر آئے گا کہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں انسان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اس بات کو جانے کہ مرنے کے بعد اسے اپنے رب کے سامنے حساب کے لئے کھڑا ہونا ہے۔ اس آنے والے دن سے تمام قوموں کو باخبر کرنا ہی امتِ محمدی کا اصل مشن ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ اس دور میں اٹھنے والی بے شمار تحریکیں میں سے کوئی بھی قابلِ ذکر تحریک ایسی نہیں جو اس خاص مقصد کو لے کر اٹھی ہو۔ موجودہ زمانہ میں جو لوگ احیائے اسلام کے لئے اٹھے، وہ اگرچہ عالم تھے اور قرآن کو پڑھتے تھے مگر ان کا شاکلہ فقہ اور تصوف اور علمِ کلام نے بنایا تھا۔ یہی چیز ہے جس نے قرآن کی صراطِ مستقیم سے لوگوں کو ہٹا دیا ان میں سے جس کے اوپر کلامیات کا غلبہ تھا، اس کے ذہن میں خدمتِ دین کے شوق نے مناظرہ کی صورت اختیار کرلی۔ جو لوگ متصوفانہ ذہن رکھتے تھے، وہ خانقاہی طرز کی تعلیم و تربیت میں ملت کا مستقبل تلاش کرنے لگے۔ اسی طرح جن کا ذہن فقہ کے سانچہ میں بنا تھا، وہ اسلام کو بطور ایک ’’نظام‘‘ کے دیکھنے لگے جس کو بروئے کار لانے کی واحد شکل یہ تھی کہ حکومتِ الہیہ قائم کرکے اسلام کے دیوانی اور فوجداری قوانین کو نافذ کیا جائے۔ یہ نقطہء نظر عوام تک میں اس طرح سرایت کر گیا کہ اسلام کے اصل کام کے لئے ان کے اندر کوئی اپیل نہیں رہی۔ ان کی فہرست میں صرف دو کام ثواب کے کام کی حیثیت سے باقی رہ گئے ـــ مسجدوں اور مدرسوں کی تعمیر کے لئے چندے دینا، یا ’’بزرگوں‘‘ کی خدمت میں نذرانے پیش کرنا۔ ان کے سوا کوئی اور کام انھیں دینی کام نظر نہیں آتا، اس لئے ان سے تعاون کی توقع بھی نہیں کی جاسکتی۔ ایک خالی الذہن شخص ہمارے اسلامی کتب خانہ کو دیکھے تو وہ حیرت انگیز طور پر ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page