علومِ اسلامی کی تدوین
Urdu book, p. 81
By Maulana Wahiduddin Khan
اختلاف کا مشاہدہ کرے گا۔ یہ دین منزل اور دین مدوّن کا اختلاف ہے جو بہت بڑے پیمانہ پر اسلام کے اندر پیدا ہو گیا ہے۔ خدا کا دین قرآن وحدیث میں ایک سادہ اور فطری چیز نظر آتا ہے۔ وہ دلوں کو گرماتا ہے اور عقل میں جلا پیدا کرتا ہے۔ مگر یہی الہی علم جب انسانی کتابوں میں مدون ہو کر ہمارے سامنے آتے ہیں تو اچانک وہ ایک ایسی شکل اختیار کر لیتے ہیں جس میں خشک بحثوں کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ ان میں نہ دلوں کے لئے گرمی ہے اور نہ عقل کے لئے روشنی۔ قرآن میں بھی فقہ ہے مگر وہ کنز الدقائق (ابو البرکات نسفی) کی فقہ سے مختلف ہے۔ قرآن میں بھی تصوف ہے۔ مگر ضیاء القلوب ( حاجی امداد اللہ مہاجر کی) کے تصوف سے اس کو کوئی مشابہت نہیں۔ اسی طرح قرآن میں بھی معقولات ہیں مگر شمس بازغہ (ملاّ جیون جون پوری) کی معقولات سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ علوم اسلامی کی تدوین بذاتِ خود کوئی غیر مطلوب چیز تھی۔ وہ بلاشبہ مطلوب تھی۔ مگر اس نے بعد کی صدیوں میں جو رخ اختیار کر لیا وہ صحیح نہ تھا۔ اسلامی علوم کی تدوین تذکیری طرز پر مطلوب تھی نہ کہ فنی طرز پر جیسا کہ عملاً وقوع میں آیا۔ دین کو ذکر و نصیحت کی خاطر آسان (قمر۔17) بنایا گیا تھا۔ مگر ہم نے اپنی پیچیدہ بحثوں سے اس کو مشکل بنا دیا۔ قرآن کو ذکر یعنی نصیحت (یس۔69) کہا گیا ہے۔ قرآن میں غور وفکر (ص۔29) اور علمی اضافہ (زمر۔39) وہی مطلوب ہے جس سے ذکر اور نصیحت حاصل ہو۔ مزید یہ کہ علوم قرآنی کی تفصیل و تبیین کس طرح کی جائے، اس کا بھی واضح نمونہ سنتِ رسول میں موجود تھا۔ کیوں کہ آپ اس کے لئے خدا کی طرف سے مامور تھے (نحل۔44) اور آپ نے اس کو انتہائی مکمل شکل میں انجام دیا۔ یہ تمام چیزیں ثابت کرتی ہیں کہ علوم اسلامی کی تدوین کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ نئے نئے مسائل وضع کئے جائیں اور قرآن، جس میں امام غزالی کے نزدیک صرف پانچ سواحکام ہیں، اس کو پانچ سو ہزار احکام کا مجموعہ بنا دیا جائے۔ علوم اسلامی کی تدوین کا مطلب صرف یہ ہے کہ اس میں بطور تبییں تفصیل وہ چیزیں شامل کی جائیں جن میں ذکر اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader