علومِ اسلامی کی تدوین
Urdu book, p. 82
By Maulana Wahiduddin Khan
نصیحت کا سامان ہو۔ قرآن میں ہم کو جو باتیں بتائی گئی ہیں، ان کے بارے میں یہ ہے کہ ان کو مضبوطی سے پکڑو، اسی کے ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ قرآن کے بیانات پر غور اور تدبر کرو (ص۔ 29) قرآن میں تفصیلات اور معانی کی تلاش بجائے خود ایک پسندیدہ چیز ہے۔ مگر یہ تلاش تذکیر ونصیحت کے اجزاء، تلاش کرنے کے لئے ہونا چاہئے نہ کہ فنی تعینات اور قانونی فروعات ڈھونڈنے کے لئے۔ آج اگر کسی بستی کے لوگ دار الافتاء کو یہ مسئلہ لکھ کر بھیجیں کہ ہماری مسجد کا مسقف حصہ نمازیوں کی بڑھی ہوئی تعداد کے لئے تنگ ہورہا تھا اور مسجد کے موجودہ رقبہ میں اضافہ کی صورت نہ تھی، اس لئے ہم نے مسجد کے پورے صحن پر چھت ڈال دی۔ اب مشکل یہ پیش آگئی کہ مسجد میں صحن باقی نہ رہا۔ ایسی حالت میں کیا موسمی ضرورتوں کے تحت مسجد کی کھل چھت کو نماز کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے، تو ہمارا مفتی فوراً ایک شرعی مسئلہ کی حیثیت سے اس کا جواب دینے بیٹھ جائے گا اور لکھے گا کہ ہر فلاں فلاں شرطوں کے ساتھ مسجد کی چھت کو نماز کے لئے استعمال کیا جاسکता ہے۔ حالاں کہ ہر چیز کو ’’شرعی مسئلہ‘‘ بنانا قطعاً اسلام کے خلاف ہے۔ یہ تو وہ یہودیت ہے جس کو مٹانے کے لئے نبی آخر الزماں کو مبعوث کیا گیا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے زمانہ میں یہ حال تھا کہ جب اس قسم کا کوئی سوال کیا جاتا تو سائل کو کوئی متعین جواب نہ دیا جاتا بلکہ یہ کہا جاتا کہ یہ کوئی شرعی مسئلہ نہیں۔ اپنے حالات کے لحاظ سے جیسا مناسب سمجھو ویسا کرلو احادیث وسیرت کی کتابوں میں کثرت سے اس قسم کی مثالیں ملتی ہیں کہ کسی سوال کے جواب میں ’’مسئلہ‘‘ بتانے کے بجائے خود سوال کی حوصلہ شکنی کی گئی۔ مگر آج کے فقیہہ اور مفتی کے یہاں اس قسم کا کوئی خانہ نہیں۔ اس کے یہاں ہر چیز ایک شرعی مسئلہ ہے اور ہر بات کے جواب میں وہ اپنی فقہ کی کتابوں سے کوئی نہ کوئی جزئید دریافت کر لیتا ہے جس کی روشنی میں وہ سائل کو مسئلہ کی شرعی صورت بتا سکے۔1 ابن عباس اور ابن مسعود سے مروی ہے : من افتی الناس فی کل ما یسئلو نہ لمجنون، جزء ثان 164

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader