Urdu book · تجدید دین

علومِ اسلامی کی تدوین

Urdu book, p. 83

By Maulana Wahiduddin Khan

نزولِ قرآن کے وقت یہود سے کہا گیا تھا: وَيَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ ط (اعراف - 157) یہ نبی ان پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے جو ان پر لدے ہوئے تھے اور وہ بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے۔ مطلب یہ کہ یہودی فقیہوں نے اپنی قانونی موشکافیوں سے اور ان کے روحانی مقتداؤں نے اپنے تورع کے مبالغوں سے ان کی زندگی کو جن بوجھوں کے نیچے دبا رکھا ہے اور جن خودسا ختہ بندشوں میں انھیں جکڑ رکھا ہے، یہ پیغمبر ان سے انھیں آزاد کرتا ہے اور دین خداوندی کو اس کی بے آمیز شکل میں ان کے سامنے پیش کر رہا ہے۔ آج پیغمبر آخرالزماں کی امت خود انہیں" اصر و اغلال" کے نیچے دب چکی ہے۔ ان کے فقہاء و مشائخ نے اسلام میں وہ سارے اضافے کر ڈالے ہیں جو یہودی فقیہوں اور فریسیوں نے شریعت موسوی میں کیے تھے۔ آج اسلام کی تجدید کا سب سے پہلا کام یہ ہے کہ اسلام کو ان تمام اضافوں سے پاک کر دیا جائے۔ جب تک یہ کام نہ ہو اسلام کو زندہ نہیں کیا جا سکتا۔ خدا کے دین کو فن بنانا بظاہر ایک حسین یا کم از کم بے ضرر چیز معلوم ہوتا ہے۔ مگر نتیجہ کے اعتبار سے وہ نہایت سنگین ہے۔ یہ دلوں کے اندر قساوت پیدا کرتا ہے اور لطیف احساسات کو آدمی سے چھین لیتا ہے۔ قرآن وحدیث میں خدا کا دین جس زبان میں ہے، وہ انذار و تبشیر کی زبان ہے، وہ تذکیر و نصیحت کی زبان ہے۔ یہ دونوں ایک دوسرے سے مکمل طور پر مختلف ہیں اور بالکل مختلف قسم کے نتائج پیدا کرتے ہیں۔ قرآن وحدیث کا اسلوب کلام سادہ اسلوب کلام ہے۔ اس قسم کا اسلوب انسانی فطرت سے گہری مطابقت رکھتا ہے۔ وہ ایسا ہی ہے جیسے پیاسے کے لئے پانی۔ قرآن وحدیث کا یہ انداز آدمی کو حقائق ومعانی کی طرف متوجہ کرتا ہے، جب کہ ہمارے فنی علوم اس کو جزئیات اور فروع میں مشغول کر دیتے ہیں۔ قرآن وحدیث کے انداز سے آدمی کے اندر تفکر و تدبر کی کیفیت پیدا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page