علومِ اسلامی کی تدوین
Urdu book, p. 84
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوتی ہے، جب کہ فنی علوم بحث و جدال کے لامتناہی دروازے کھول دیتے ہیں۔ قرآن وحدیث کا انداز آدمی کے احساسات کو اس طرح جگاتا ہے کہ یوم الحساب کا مسئلہ نظر آنے لگتا ہے۔ اس کے برعکس فنی علوم آدمی کو لایعنی قسم کی منطقی موشگافیوں میں الجھا کر اس کو زندگی کے اصل سوالات سے دور کر دیتے ہیں۔ اس طرح یہ فنی علوم، بظاہر جائز علوم ہونے کے باوجود، باعتبار نتائج اس مقصد کے لئے قاتل بن گئے ہیں جس کے لئے اللہ نے قرآن اتارا اور اپنا رسول بھیجا تھا۔ اس صورت حال کی اصلاح کی کوئی بھی شکل اس کے سوا نہیں ہے کہ قرآن وحدیث کو حقیقی معنوں میں لوگوں کے لئے دین اخذ کرنے کا ذریعہ بنا دیا جائے ، جس طرح اب وہ فنون کی کتابوں سے اپنا دین اخذ کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر نماز کے بارے میں تمام بنیادی باتیں قرآن میں موجود ہیں۔ اس کے بعد اس کے ضروری مسائل حدیث اور آثار صحابہ میں مل جاتے ہیں۔ اب مسائل نماز پر ہماری جو کتاب لکھی جائے وہ بس انہی تینوں چیزوں (قرآن، سنت، آثار صحابہ) پر مشتمل ہو۔ اس کے سوا کسی بھی چیز کو نماز کے مسائل میں شمار نہ کیا جائے۔ حتیٰ کہ ترجیح اور تفضیل کو بھی نہیں۔ کیونکہ صحابہ کے درمیان کسی مسئلہ میں اختلاف ہونا اس مسئلہ میں دینی توسع کو بتاتا ہے نہ یہ کہ ایک صحیح ہے اور دوسرا غلط، ایک افضل ہے، دوسرا غیر افضل۔ ہمارے عربی کتب خانہ کی ’’امہات کتب‘‘ کا بیشتر حصہ وہ ہے جو اسی فنی زبان میں مرتب کیا گیا ہے۔ فن فقہ، فن معقولات اور فن تصوف ، بعد کو پیدا ہونے والے اسلامی لٹریچر پر اسی طرح چھائے ہوئے ہیں جس طرح ہالہ چاند کو گھیرے ہوئے ہوتا ہے۔ نتیجہ اگر چہ متن اسلام نہیں مگر عملی اور روایتی اسلام ٹھیک اسی طرح انسانی آمیزش کا شکار ہو گیا جس طرح دوسرے مذاہب اس کا شکار ہوئے تھے۔ جب تک یہ کتابیں علم دین کا ماخذ ہیں، کبھی یہ ممکن نہیں کہ صحیح تصور دین لوگوں کے دماغوں میں جگہ پاسکے۔ صحیح دینی فکر پیدا کرنے کے لئے ناگزیر طور پر ضروری ہے کہ قرآن وحدیث اور آثار صحابہ کو علم دین کا ماخذ بنایا جائے نہ کہ ان کتابوں کو جو ہمارے دارالعلوموں میں پڑھائی جاتی ہیں۔ اسلام کو دوبارہ زندہ کرنے کے لئے پہلا ناگزیر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader