علومِ اسلامی کی تدوین
Urdu book, p. 85
By Maulana Wahiduddin Khan
قدم یہ ہے کہ علوم قرآن، علوم حدیث اور آثارِ صحابہ کو از سر نو سادہ علمی انداز میں مرتب کیا جائے اور فقہی اور معقولاتی اور متصوفانہ انداز کو ہمیشہ کے لئے ایک تاریخی چیز بنا دیا جائے۔ خدائی دین کو جب تک انسانی آمیزش سے پاک نہ کیا جائے، اسلام کا احیاء نہیں ہو سکتا۔ اسلام کی تدوین کا کام ایک دو شخص کے کرنے کا کام نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی مجلس ہی کے ذریعہ انجام پا سکتا ہے جس میں معقول تعداد میں ایسے اہل علم جمع کیے جائیں جو نہ صرف قرآن وحدیث کو بخوبی جانتے ہوں بلکہ خالص علمی انداز سے مسائل کی تحقیق کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اس طرح کی ایک ٹیم ایک ادارہ میں اکٹھا ہو کر مسلسل کام کرے اور اس کو اس مقصد کی تکمیل کے لئے ہر قسم کے وسائل بافراط حاصل ہوں تو انشاء اللہ دس برس میں وہ ذخیرہ کتب تیار ہو سکتا ہے جو اسلام کو از سر نو زندہ کرنے کی ایک حقیقی جد و جہد کے لئے فکری بنیاد کا کام دے۔ یہ امت اگر چاہتی ہے کہ قیامت میں اس کو امت محمدی کی حیثیت سے شمار کیا جائے تو اس کا پہلا لازمی فریضہ ہے کہ ’’ھدی محمدی‘‘ کو انسانی آمیزشوں سے پاک کر کے اس کو خالص شکل میں لوگوں کے سامنے رکھ دے۔ موجودہ حالت میں اگر ارادہً نہیں تو عملاً وہ کتمان حق کی مجرم بن رہی ہے اور اس بات کو اچھی طرح جان لینا چاہئے کہ کسی حامل کتاب گروہ کے لئے کتمان حق کے ساتھ کوئی بھی عمل اللہ تعالیٰ کے یہاں مقبول نہیں ہوتا۔ حکمت کا تقاضا ہے کہ اس کام کو اجتماعی اہتمام کے ساتھ انجام دیا جائے۔ وہ علوم جو اجتماعی اہمیت کے حامل ہوں ان کی تدوین اجتماعی سطح پر ہی ہونا چاہیے تا کہ پوری ملت کے اندر ان کو مستند مقام حاصل ہو اور سارے لوگ ان کو قبول کر سکیں۔ حضرت ابوبکر صدیق کے زمانہ میں جب ریاست کے تحت قرآن کی جمع و ترتیب کا کام انجام دیا گیا اور اس کے بعد نسخے بچے ان کو جلا دیا گیا، تو اس کے اندر یہی حکمت تھی۔ جمع قرآن کا کام اگر انفرادی شخصیتوں کے ذریعہ انجام پاتا تو سخت اختلاف ہو جاتا اور پھر قیامت تک ختم نہ ہوتا۔ حدیث کی جمع و تدوین کے لئے بھی حضرت عمر بن عبدالعزیز نے غالباً یہی منصوبہ بنایایا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader