علومِ اسلامی کی تدوین
Urdu book, p. 86
By Maulana Wahiduddin Khan
تھا۔ انھوں نے مدینہ کے گورنر محمد بن عمروبن حزم اور دوسرے گورنروں کو لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو حدیث اور سنت ملے ان کو جمع کر کے ضبط تحریر میں لائیں۔ مگر ان کی جلد موت کی وجہ سے خلافت کی ماتحتی میں یہ کام انجام نہ پا سکا۔ اس کے بعد ایسا ہوا کہ لوگ ’’ثواب‘‘ کے جذبہ کے تحت انفرادی طور پر اس کو کرنے میں لگ گئے۔ بہتر طریقہ یہ تھا کہ محدثین، خلفاء کے ذریعہ، جوان کے لئے بے حد عقیدت مند تھے، سرکاری انتظام کے تحت ایک ادارہ قائم کراتے جس میں محدثین کی منتخب جماعت اکٹھا ہو کر حدیث کی جمع و ترتیب کے سلسلے میں وہی کرتی جو قرآن کے سلسلے میں زید بن ثابت انصاری اور ان کے ساتھیوں نے کیا تھا۔ اگر آغاز ہی میں معتبر احادیث کا ایک مجموعہ تیار کر کے باقی تمام’’ احادیث‘‘ کو نذر آتش کر دیا جاتا تو امت بے شمار فتنوں سے بچ جاتی۔ فقہ کی تدوین کے سلسلے میں بھی صحیح طریقہ اسی اسوہٴ صدیقی پر عمل کرنا تھا۔ بجائے اس کے کہ مختلف فقہاء الگ الگ اپنا مدرسہ فکر لے کر بیٹھ جائیں اور ایک خداوندی مذہب کو دس الگ الگ مذاہب میں تبدیل کر ڈالیں۔ اسی طرح علوم اسلامی کی تدوین کا جو کام ہمارے ذمہ ہے اس کو انجام دینے کا بھی صحیح طریقہ یہ ہے کہ اہل علم کی ایک ٹیم مقرر کی جائے اور وہ اپنی اجتماعی جد و جہد سے کتابوں کا ایک سیٹ مرتب کرے۔ انفرادی طور پر اگر یہ کام کیا گیا تو اصل مدعا حاصل نہ ہوگا۔ ہمارے پاس اسلامی کتابوں کا ایک سیٹ ہونا چاہئے جو اسلام کے مکمل مطالعہ کے لئے کسی کو دیا جا سکے۔ اس سلسلے میں علوم اسلامی کی تدوین کی ایک تجویز یہ ہوسکتی ہے: تدوین علوم اسلامی قرآن 1۔ غیر عربی دانوں کے لئے ترجمہ (بغیر تفسیر) شائع کرنا، مختلف زبانوں میں۔ 2۔ قرآن میں مذکور انبیاء اور قوموں کے حالات تاریخی انداز سے مرتب کرنا، قدیم معلومات اور جدید اثر یات کی مدد سے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader