Urdu book · تجدید دین

تعلیمی نظام کی تجدید

Urdu book, p. 88

By Maulana Wahiduddin Khan

تعلیمی نظام کی تجدید سر آرتھر کیتھ (1855- 1866) نے مصر کی قدیم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے لکھا ہے: The Egyptians were conquered not by the sword, but by the Koran. Sir Arthur, A New theory of Human Evolution, London, Watts & Co., 1950, p, 303. "مصریوں کو کسی تلوار نے فتح نہیں کیا بلکہ قرآن نے فتح کیا۔‘‘ انگریز مبصر نے مصر کے سلسلہ میں اسلام کی جس نظریاتی طاقت کا اعتراف کیا ہے، وہی ایشیاء اور افریقہ کے اس پورے خطہ کے لئے صحیح ہے جس کو آج ہم اسلامی دنیا کے نام سے جانتے ہیں۔ ایسا کیونکر ہوا کہ یہ ساری قومیں نہ صرف اپنا مذہب بلکہ زبان تک بدل کر اسلامی برادری میں شامل ہو جائیں۔ جواب یہ ہے کہ مدرسوں کے ذریعہ۔ دور اول کے مسلمان عرب سے نکل کر اطراف کے تمام ملکوں میں پھیل گئے۔ انھوں نے اپنی اسلامی مہم کے مرکز کے طور پر جگہ جگہ اسلامی مدرسے قائم کئے۔ ان مدرسوں میں لوگوں کو عربی زبان سکھائی جاتی ہے اور قرآن و حدیث پڑھایا جاتا ہے۔ ان مدرسوں سے جو لوگ پڑھ کر نکلتے ، وہ اپنی اپنی بستیوں، میں جا کر دوبارہ اسی قسم کے ادارے قائم کرتے ہیں، مدرسوں ک بنیاد بنا کر کام کرنے کا یہی طریقہ تھا جس نے ایک سو برس کے اندر اندر اس وقت کی آباد دنیا کے بڑے حصے کے مذہب، تہذیب اور زبان کو بدل ڈالا۔ قرآن ایک دائمی معجزہ ہے۔ خالق کائنات نے اس کے ذریعہ اپنے بندوں سے کلام کیا ہے۔ وہ اس دنیا میں خدا اور بندہ کا مقام اتصال ہے، وہ دلوں کو گرماتا ہے اور شعور کو بیدار کرتا ہے۔ اس کے اعلی مضامین اور اس کا آسمانی ادب اتنا اثر انگیز ہے کہ جو شخص بھی قرآن کو سمجھ کر پڑھتا ہے، اس کی صداقت کو ماننے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اسی طرح رسول کی زندگی اور آپ کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page