Urdu book · تجدید دین

تعلیمی نظام کی تجدید

Urdu book, p. 89

By Maulana Wahiduddin Khan

اصحاب کے حالات انسانی تاریخ کا انتہائی حیرت ناک انقلابی واقعہ ہیں جو زندگیوں کو گرمانے کی بے پناہ صلاحیت رکھتے ہیں۔ دور اول کے مدرسے بس انہی چیزوں کو زندہ کرنے کے ادارے تھے۔ اس کے بعد آدمی ایمان اور حرارت کے ہیں ان خزانوں سے براہ راست اپنا دین اخذ کرنے لگتا تھا۔ علم دین اس کے لیے صحبت رسول اور صحبت صحابہ کے ہم معنی بن جاتا تھا۔ خدا کی کتاب اس کی فطرت کو جگاتی تھی۔ رسول اور آپ کے اصحاب کی انقلابی زندگیاں اس کے سینہ میں عمل کی آگ بھر دیتی تھیں۔ اس طرح زندہ انسانوں کی وہ فوج تیار ہوتی تھی جو خدا کے لیے جینے اور خدا کے لیے مرنے کے سوا کوئی اور بات اس دنیا میں نہ جانتی تھی۔ آج ہمارے یہاں پہلے سے بھی زیادہ بڑی تعداد میں مدرسے قائم ہیں مگر آج ان مدرسوں کا وہ فائدہ ظاہر نہیں ہورہا ہے جو دور اول میں ظاہر ہوا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مدرسے اپنے ڈھانچے کے اعتبار سے اس سے بالکل مختلف ہیں جو صحابہ و تابعین نے قائم کیے تھے۔ موجودہ زمانہ کے مدرسوں میں تعلیم دین کو ایک فن بنادیا گیا ہے۔ قرآن اس لئے اترا کہ اس کو پڑھ کر لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوں اور ان کے دل میں خدا کی یاد سے دہل اٹھیں ۔ مگر ان مدرسوں کے نصاب میں قرآن کو صرف ضمنی مقام حاصل ہے۔ رسول کی زندگی اور صحابہ کے حالات جو تاریخ انسانی میں آتش فشاں کی حیثیت رکھتے ہیں ان کو سرے سے پڑھایا ہی نہیں جاتا۔ احادیث و آثار کا مقام ہمارے مدارس میں صرف یہ ہے کہ ان کو عنوان بنا کر جزئیات فقہ کے کچھ خود ساختہ مسائل پر لامتناہی بحثیں جاری رکھی جاسکیں ۔ اسی کے ساتھ ''علوم آلیہ‘‘ کے نام پر جو فنون پڑھائے جاتے ہیں وہ اتنے فرسودہ ہیں کہ ذہن کو جمود اور لایعنی موشگافیوں کا عادی بنانے کے سوا کوئی دوسری خدمت انجام نہیں دے سکتے۔ اسلامی مدرسہ کی فضا کو اللہ کی بڑائی کے چرچے سے معمور رہنا چاہئے ۔ مگر ہمارے موجودہ تعلیمی ادارے زوال کی جس سطح پر ہیں وہ یہ ہے کہ ہر ایک نے اپنے کچھ زندہ یا مردہ اکابر بنا لیے ہیں اور مدرسہ کی تمام سرگرمیاں بس انھیں بزرگوں کی کبریائی کا سبق دینے کے لیے وقف رہتی ہیں۔ ایسی حالت میں کیسے ممکن ہے کہ یہاں لوگوں کو ایمانی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page