تعلیمی نظام کی تجدید
Urdu book, p. 90
By Maulana Wahiduddin Khan
حرارت کا سبق ملے، یہاں اعلیٰ انسانی کردار ڈھلیں۔ یہاں خدا و آخرت کی تڑپ رکھنے والے لوگ پیدا ہوں، یہاں سے اسلام کا وہ سیلاب اٹھے جو دور اول کے مدرسوں سے اٹھا تھا اور ایک عالم پر چھا گیا تھا۔ چڑیا گھر میں لوگ ہنسی خوشی گھوم رہے ہیں۔ اچانک ذمہ داروں کی طرف سے اعلان ہوتا ہے کہ ایک شیر کٹہرے سے باہر آ گیا ہے۔ اس وقت اس خبر کو جاننے کے معنے کیا ہوں گے ۔ صرف ایک : جلد سے جلد بھاگ کر شیر سے بچنے کی کوشش کرنا۔ اس خبر کا علم ہوتے ہی چڑیا گھر کی تمام سرگرمیاں شیر کے مسئلہ کے گرد سمٹ آئیں گی۔ شیر کا علم اور شیر کا خوف ، دونوں اس وقت ہم معنی الفاظ بن جائیں گے۔ اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ دینی تعلیم کا مطلب کیا ہے۔ دینی تعلیم کا مقصد بندے کو اس کے خدا سے متعارف کرنا ہے۔ انسانی شعور کو تربیت دے کہ اس سطح پر لانا ہے جہاں وہ اپنے خالق اور مالک کو جان سکے اور اس کے ساتھ وہ تعلق قائم کرے جو حقیقت واقعہ کے اعتبار سے مطلوب ہے۔ یہ آگہی اگر کسی کے اندر پیدا ہو جائے تو اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔ وہی واقعہ بدر جہاں زیادہ شدت کے ساتھ ظہور میں آئے گا جو شیر کے چھوٹنے کی خبر سن کر چڑیا گھر کے زائرین میں ہوتا ہے۔ شیر کا خالق شیر سے بھی زیادہ طاقت ور ہے۔ ہم شیر کو گولی مار سکتے ہیں۔ کسی بند مکان میں گھس کر شیر سے بچ سکتے ہیں۔ مگر رب العالمین کی پکڑ سے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔ اس لئے حقیقی دینی تعلیم جس ماحول میں وجود میں آ جائے ، وہ خوف خدا کا ماحول بن جائے گا۔ خدا کا علم اور خدا کا خوف دونوں ہم معنی الفاظ بن جائیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس تعلیمی ادارہ میں خوف خدا کی فضا پیدا نہ ہو ، وہ اور جو کچھ بھی ہو، دینی تعلیم کا ادارہ نہیں ہو سکتا۔ قرآن کی رو سے عالم وہی ہے جو خدا سے ڈرنے والا ہو: إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَؤُا ط (فاطر_ 28) اللہ سے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader