Urdu book · تجدید دین

تعلیمی نظام کی تجدید

Urdu book, p. 91

By Maulana Wahiduddin Khan

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: اعلمكم بالله اشدكم له خشية (تفسیر نسفی) تم میں سب سے زیادہ عالم وہ ہے جو سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے یہاں اس سلسلہ میں چند مزید اقوال نقل کیے جاتے ہیں: ابن مسعود: ليس العلم بكثرة الرواية انما العلم خشية الله علم کثرت روایت کا نام نہیں ہے۔ علم نام ہے اللہ سے خوف کا۔ (جامع بیان العلم و فضله، جزء ثانی صفحہ 25) مجاہد: الفقيه من خاف الله (49) فقیہ وہ ہے جو اللہ سے ڈرے۔ عطاء: من خشٰی الله فهو عالم (49) جو اللہ سے ڈرے وہی عالم ہے حسن بصری: العالم من خشى الرحمن بالغيب عالم وہ ہے جو دیکھے بغیر اللہ سے ڈرے موجودہ اسلامی درس گاہوں کو اس معیار پر جانچا جائے تو وہ اس کیفیت سے بالکل خالی نظر آئیں گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان مدرسوں اور دار العلوموں کی بنیاد خوف خدا پر رکھی ہی نہیں گئی۔ ان کا مقصد بعض فنون کی تعلیم ہے اور ان فنون کے علماء بہر حال ان اداروں سے کثیر تعداد میں نکل رہے ہیں۔ اپنے تاسیسی مقصد کے اعتبار سے ممکن ہے وہ ناکام نہ ہوں۔ مگر حقیقی علم دین پیدا کرنے کے اعتبار سے بلاشبہ وہ مکمل طور پر نا کام ہیں۔ امام مالک کا قول ہے: لن يصلح آخر هذه الامة الا بما صلح به اولها (اس امت کے آخر کی اصلاح بھی اسی طریقہ کی پیروی سے ہوگی جس سے امت کے اول کی اصلاح ہوئی تھی) یہ قول موجودہ حالات کے لئے مکمل طور پر صادق آتا ہے۔ اس امت کے ابتدائی حصہ کے اندر جو زندگی اور انقلاب آیا تھا، وہ قرآن اور رسول کے ذریعہ آیا تھا۔ آج اسلام کے احیاء کے لئے بہترین قابل عمل آغاز یہ ہے کہ قدیم طرز کی درس گاہیں قائم کی جائیں جن میں تعلیم کی بنیاد قرآن اور سیرت ہو کہ نہ کہ بعد کے پیدا شدہ فنون۔ ضرورت ہے کہ دوبارہ دورِ اوّل کے طرز کے مدرسے قائم ہوں اور ان کو بنیاد بنا کر اصلاح

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page