Urdu book · تجدید دین

اجنبی دین

Urdu book, p. 93

By Maulana Wahiduddin Khan

اجنبی دین حضرت ابو ہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام شروع ہوا تو وہ اجنبی تھا۔ دوبارہ وہ ویسا ہی ہو جائے گا جیسا کہ وہ تھا تو مبارک کی ہوا جنبیوں کے لیے (بدأ الاسلام غربيا وسيعود كما بدأ فطوبى للغرباء، رواہ مسلم) ابتدائی زمانہ میں اسلام کس طرح لوگوں کے درمیان اجنبی تھا۔ اس کی مثالیں قرآن و حدیث سے معلوم کی جا سکتی ہیں۔ مثلاً قرآن میں بتایا گیا ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ کے مشرکین کے سامنے یہ دعوت پیش کی کہ ایک اللہ کو اپنا الہ بناؤ اور دوسرے الہوں کو چھوڑ دو تو انھوں نے کہا کہ کیا اس پیغمبر نے کئی الہ کی جگہ ایک الہ کر دیا۔ یہ تو بڑی عجیب بات ہے (ص 5) مکہ کے مشرکین اللہ کو مانتے تھے۔ اسی کے ساتھ انھوں نے اپنے بزرگوں کو بھی اونچا درجہ دے رکھا تھا۔ ان کے بت بنا کر وہ ان کو پوجتے تھے۔ پیغمبر اسلام نے جب ایک اللہ کے سوا ہر ایک کی بڑائی کا انکار کیا تو یہ بات انھیں اجنبی اور نا مانوس معلوم ہونے لگی۔ اسی طرح ایک مثال یہ ہے کہ اسلام سے پہلے جاہلیت کے زمانہ میں عرب کے لوگ میراث میں عورتوں کا کوئی حصہ نہیں سمجھتے تھے۔ جب قرآن میں یہ حکم آیا کہ ایک مرد کا حصہ دو عورتوں کے حصہ کے برابر ہے (للذكر مثل حظ الانثيين) تو انھیں اپنے ذہن کے اعتبار سے یہ بات بہت عجیب معلوم ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا عورت اپنے باپ کے ترکہ میں آدھی کی حقدار ہے، حالاں کہ وہ نہ گھوڑے کی سواری کرتی ہے اور نہ دشمن سے لڑ سکتی ہے (یا رسول الله تعطى الجارية نصف ما ترك ابوها وليست تركب الفرس ولا تقاتل القوم، تفسیر ابن کثیر، الجزء الاول، صفحہ 458)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page