Urdu book · تعمیر حیات

تعمیر حیات

Urdu book, p. 10

By Maulana Wahiduddin Khan

اسی طرح ہزاروں سال سے انسان کو بظاہر یہ دکھائی دیتا تھا کہ زمین ایک مسطح میدان کی طرح چپٹی ہے۔ ظاہری مشاہدہ میں یہ نظریہ درست معلوم ہوتا تھا۔ چنانچہ اس کو ایک مسلّمۂ کے طور پر مان لیا گیا۔ ایک بار ایسا ہوا کہ ایک گہری سوچ والا آدمی سمندر کے کنارے ساحل پر کھڑا ہوا تھا۔ دور سمندر افق سے ملتا ہوا نظر آتا تھا۔ اچانک اس نے دیکھا کہ سمندر کے دوسرے سرے پر ایک نشان بر آمد ہوا۔ یہ ایک بحری جہاز کا مستول (Mast) تھا۔ دھیرے دھیرے مستول اوپر اٹھتا گیا یہاں تک کہ پورا جہاز سطح سمندر پر دکھائی دینے لگا۔ وہ آدمی سوچنے لگا کہ ایسا کیوں ہوا۔ زمین اگر چپٹی (flat) ہوتی تو جہاز دور سے بھی بیک وقت پورا دکھائی دیتا اور قریب سے بھی پورا۔ صرف اس فرق کے ساتھ کہ پہلے وہ دھند لا دکھائی دیتا اور بعد کو وہ صاف نظر آتا۔ مگر جب ایسا ہوا کہ جہاز پہلے تھوڑا سامنے آیا اور اس کے بعد دھیرے دھیرے پورا جہاز دکھائی دیا۔ اس سے اس آدمی نے سمجھا کہ زمین میں خم (curvature) ہے یعنی زمین تختہ کے مانند نہیں ہے بلکہ گیند کے مانند ہے۔ چنانچہ زمین کے خم کے ساتھ جہاز اوپر اٹھتا رہا یہاں تک کہ وہ پوری طرح سامنے آ گیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ زندگی میں سوچنے کی اہمیت کتنی زیادہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سوچ ہی کے ذریعہ تمام نئی باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ سوچ ہی کے ذریعہ منصوبہ بندی ممکن ہوتی ہے۔ سوچ ہی کے ذریعہ ناکامی کو کامیابی میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ سوچ ہی کے ذریعہ یہ ممکن ہوتا ہے کہ کوئی شخص ماضی اور حال پر غور کر کے مستقبل کے لیے زیادہ بہتر نقشہ بنا سکے۔ تیسرا نکتہ انسانی سماج میں ہمیشہ باہمی جھگڑے جاری رہے ہیں۔ ان جھگڑوں کا وجود کوئی لازمی چیز نہیں۔ یہ خود سوچنے والے انسان کے اوپر ہے کہ وہ چاہے تو اپنے آپ کو جھگڑوں میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page