تعمیر حیات
Urdu book, p. 99
By Maulana Wahiduddin Khan
یہی اس دنیا میں زندگی اور ترقی کا راز ہے۔ خدا نے اس دنیا کا نظام مقابلے کے اصول پر قائم کیا ہے۔ اس دنیا میں کوئی بڑی جگہ صرف اسی کو ملتی ہے جو مقابلہ کا سامنا کرنے کی ہمت رکھتا ہو۔ تحفظ اور مراعات کے ذریعہ اس دنیا میں کوئی بڑی کامیابی ملنا ممکن نہیں۔ مسائل کا سامنا کرنا آدمی کی قوت کو بڑھاتا ہے۔ وہ ایک عام انسان کو غیر معمولی انسان کے درجہ تک پہنچا دیتا ہے۔ کمزور بھی طاقتور جارج بیدات (1983-1899) ایک فرانسیسی سیاست داں ہے ۔ اس کے عام خیالات سے اتفاق کرنا مشکل ہے۔ تاہم اس کا ایک قول بہت با معنی ہے۔ اس نے کہا کہ کمزور آدمی کے پاس ایک ہتھیار ہوتا ہے، اور وہ ان لوگوں کی غلطیاں ہیں جو یہ سمجھیں کہ وہ طاقتور ہیں: The weak have one weapon, the errors of those who think they are strong.—George Bidault اس دنیا میں سب سے بڑی کمزوری اپنے آپ کو طاقت ور سمجھ لینا ہے۔ جو آدمی اپنے کو طاقت ور سمجھنے لگے وہ ضرور غلطیاں کرے گا۔ ایسے آدمی کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ طاقت کے گھمنڈ میں تدبیر سے بے پروا ہو جاتا ہے۔ اور جو آدمی تدبیر کی طرف سے بے پروا ہو جائے اس کے لیے شکست یقینی ہے۔ کیوں کہ اس دنیا میں کوئی بھی شخص اتنا طاقت ور نہیں کہ اس کو تدبیر کی ضرورت ہی نہ ہو۔ جب بھی کوئی آدمی یہ محسوس کرے کہ اس کا حریف طاقت کے زعم میں آ کر اس کو ستا رہا ہے تو آدمی کو سمجھ لینا چاہیے کہ اب خود اس کا حریف اس کو اپنے خلاف ہتھیار فراہم کر رہا ہے۔ ایسی حالت میں آدمی کو چاہیے کہ وہ حریف کی سرگرمیوں سے بخوبی واقفیت حاصل کرنے کی کوشش کرے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader