تعمیر حیات
Urdu book, p. 100
By Maulana Wahiduddin Khan
آدمی کو اس کا مطالعہ لازمی طور پر اس نتیجہ پر پہنچائے گا کہ حریف کے اندر فلاح کمزوری پیدا ہو گئی ہے اور وہ دھیرے دھیرے بڑھ رہی ہے ۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اس کمزوری کو جانے اور اس کو بھر پور طور پر استعمال کرے، وہ یقینی طور پر حریف کو زیر کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ اس دنیا میں کمزور بھی طاقتور ہے، اور طاقتور بھی کمزور۔ خدا نے کسی بھی شخص کو یہ حیثیت نہیں دی کہ وہ مطلق طور پر کمزور ہو جائے یا وہ مطلق طور پر طاقتور بن جائے ۔ اس دنیا میں ہر ایک کو یہ موقع حاصل ہے کہ وہ بظاہر ناموافق ماحول میں بھی کامیابی کے مواقع پالے شرط صرف یہ ہے کہ اس نے اپنی خداداد عقل کو درست طور پر استعمال کیا ہو۔ انتظار کیجیے نومبر 1991 میں میرا ایک سفر بمبئی کے لیے ہوا تھا۔ وہاں میری ملاقات حاجی اکبر خان صاحب سے ہوئی۔ وہ بمبئی کے پرانے تاجر ہیں۔ انھوں نے ایک نیا آئٹم تیار کرایا اور اس میں اپنی بہت بڑی رقم لگا دی۔ یہ آئٹم خلاف اندازہ مارکیٹ میں نکل نہ سکا۔ حاجی صاحب پر اس نقصان کا بہت برا اثر پڑا۔ ان کا بلڈ پریشر بڑھ گیا۔ ان کو ذیابیطس کی شکایت ہو گئی ، وغیرہ۔ حاجی صاحب کی رہائش گاہ پر ان سے میری ملاقات ہوئی۔ میں ان کی باتیں سنتا رہا اور دل کے اندر ان کے لیے دعا کرتا رہا، آخر میں جب روانگی کا وقت آیا تو میں نے ایک کا غذ لیا۔ اس پر ایک جملہ لکھا۔ اور اس کو بند لفافہ میں دیتے ہوئے ان سے کہا کہ اس کو میرے چلے جانے کے بعد کھول کر پڑھ لیں۔ وہ جملہ یہ تھا ۔ آپ اپنے معاملے کو غم کے خانہ میں ڈالنے کے بجائے انتظار کے خانہ میں ڈال دیجیے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader