Urdu book · تعمیر حیات

تعمیر حیات

Urdu book, p. 98

By Maulana Wahiduddin Khan

اس نے دوسروں کے تجربات سے فائدہ اٹھایا۔ اس نے لوگوں سے مشورہ کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے اپنی مشکل کا حل دریافت کر لیا۔ اس نے اپنے لیے ایک اور کھلا ہوا راستہ دریافت کر لیا جس پر چل کر وہ اپنا سفر جاری رکھ سکے اور آخر کار کامیابی کی منزل تک پہنچ جائے۔ مقابلہ کی اہمیت آدتیہ وکرم برلا آنجہانی گھنشيام داس برلا کے پوتے تھے۔ یکم اکتوبر 1995 کو بالٹی مور (امریکہ) میں ان کا انتقال ہو گیا۔ اس وقت ان کی عمر صرف 51 سال تھی۔ وہ 8 ہزار کرور روپیہ کے انڈسٹریل ایمپائر کے چیئر مین تھے۔ انھوں نے اپنی غیر معمولی لیاقت کے ذریعہ اپنے کار و بار کو ہندوستان سے لے کر بیرونی ملکوں تک پھیلا دیا تھا۔ مسٹر آدتیہ برلا نہایت ذہین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔ انھوں نے بہت پہلے اس بات کو محسوس کر لیا تھا کہ تحفظ (protection) کی پالیسی انڈیا کی صنعت کے لیے مفید نہیں ہے۔ وہ کہتے تھے کہ بزنس میں صرف اس وقت ترقی ہو سکتی ہے جب کہ وہ بین الاقوامی معیار پر ٹھر سکے: Business can progress only when it is internationally competitive. وہ نہایت حوصلہ مند انسان تھے۔ ان کے بارے میں ایک شخص نے کہا کہ دنیا ان کی مارکیٹ تھی اور اعلیٰ کار کردگی ان کا طریقہ تھا: The world was his market and efficiency was his strategy. وہ ہندوستانی گورنمنٹ کی تحفظ کی پالیسی کے برابر خلاف تھے۔ انھوں نے ایک بار کہا کہ ہم مقابلہ سے نہیں ڈرتے بلکہ خود مقابلہ کو ہم سے ڈرنا چاہیے: We are not afraid of competition, let competition be afraid of us.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page