Urdu book · تعمیر حیات

تعمیر حیات

Urdu book, p. 101

By Maulana Wahiduddin Khan

اس واقعے کے ڈیڑھ سال بعد 8 جون 1993 کی ڈاک سے حاجی اکبر خان صاحب کا ایک خط مجھے ملا۔ اس خط کا مضمون یہ تھا: 9 نومبر 1991 کے روز آپ میرے غریب خانہ پر تشریف فرماتھے، اور میری رودادِ غم سن کر مجھے نسخہ کیمیا عطا کر گئے تھے۔ ”آپ اپنے معاملے کو غم کے خانہ میں ڈالنے کے بجائے انتظار کے خانہ میں ڈال دیجیے۔“ یقین کیجیے، آپ کے اس جملہ کا مجھ پر حیرت انگیز اثر ہوا۔ نفسیاتی طور پر صبر کی بلندیوں کو چھونے کی کوشش میں، میں اپنے علم کو کافی ہلکا محسوس کرنے لگا۔ یہاں تک کہ آج جب جون 1993 کا الرسالہ میرے سامنے ہے اور سفرنامہ کے تحت اس واقعے کو ڈیڑھ سال کا عرصہ گزر چکا ہے، الحمد للہ، اسی ”صبر“ یعنی انتظار کے خانہ میں ڈالنے والے عمل کی وجہ سے اس نقصان کی کافی تلافی ہو چکی ہے۔ حالات نے خوش گوار کروٹ لی ہے، اور قوی امید ہے 1991 میں نظر آنے والا نقصان 1993 میں انشاء اللہ بھر پور منافع کی صورت میں اجاگر ہوگا۔ یہ ایک درس عظیم ہے کہ دنیا کے معاملے میں صبر کا جب یہ صلہ ہے تو آخرت کے معاملے میں صبر کا کس درجہ کا صلہ ہو گا (اکبر خاں، مچگاؤں، بمبئی)۔ اغیار سے تعاون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو یہ ایک بہت نازک سفر تھا۔ یہ سفر مکہ کے مشرکین کے ظلم و تشدد کی وجہ سے کرنا پڑا تھا۔ اس کے باوجود اس سفر کے لیے آپ نے جس گائیڈ کا انتخاب کیا وہ مکہ کا ایک غیر مسلم عبد اللہ بن اریقط تھا۔ اسی غیر مسلم گائیڈ نے آپ کی رہنمائی کرتے ہوئے آپ کو مکہ سے مدینہ پہنچایا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page