Urdu book · تعمیر حیات

اغیار سے تعاون

Urdu book, p. 102

By Maulana Wahiduddin Khan

اس سنت سے معلوم ہوا کہ دوسروں سے تعاون لینے میں مسلم اور غیر مسلم کا فرق کرنا درست نہیں ۔ اس طرح کے تعاون کے معاملے میں اہمیت دیکھی جائے گی ، نہ کہ رشتہ اور مذہب ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی پالیسی ہمیشہ اختیار کی۔ مثال کے طور پر بد کی لڑائی کے بعد ستر کی تعداد میں غیر مسلم گرفتار کر کے مدینہ لائے گئے۔ یہ لوگ اس زمانے کے لحاظ سے پڑھے لکھے تھے ۔ چنانچہ آپ نے اعلان کیا کہ ان میں سے جو شخص مدینہ کے دس بچوں کو لکھنا اور پڑھنا سکھا دے اس کو ہم رہا کر دیں گے۔ اس طرح گویا اسلام کی تاریخ میں خود رسول اللہ کے حکم سے جو پہلا اسکول کھولا گیا اس کے تمام کے تمام ٹیچر غیر مسلم تھے۔ زندگی کے معاملات میں اس اصول کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ کسی کام میں ساتھی اور کارکن کا انتخاب کرتے ہوئے اگر یہ دیکھا جائے کہ وہ اپنے مذہب کا ہے یا غیر مذہب کا ، یا اپنی برادری کا ہے یا غیر برادری کا ، تو اس سے کام کا معیار ختم ہو جائے گا۔ اس طرح کبھی کوئی کام اعلی معیار پر انجام نہیں دیا جا سکتا۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ کام کو کام کے طور پر دیکھا جائے۔ یہ دیکھا جائے کہ جو کام کرنا ہے اس کام کے لیے زیادہ بہتر اور زیادہ کار آمد کون لوگ ہو سکتے ہیں ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ ایسے معاملات میں میرٹ کی بنیاد پر افراد کا انتخاب کیا جائے ، نہ کہ کسی اور بنیاد پر۔ میرٹ کی بنیاد انتخاب کرنے سے اصل کام کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔ اور جب کسی اور چیز کو انتخاب کی بنیاد بنایا جائے تو اسی چیز کو فروغ حاصل ہوگا جس کو انتخاب کی بنیاد بنایا گیا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page