Urdu book · تعمیر حیات

سیکھنے کا مزاج

Urdu book, p. 103

By Maulana Wahiduddin Khan

سیکھنے کا مزاج خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ ہر ایک سے کچھ نہ کچھ سیکھتے تھے (کَانَ یَتَعَلَّمُ مِنْ کُلِّ أَحَدٍ ) ۔ اس معاملے کی ایک مثال روایت میں اس طرح آئی ہے کہ ایک بار انھوں نے ایک صحابی سے پوچھا کہ تقویٰ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اے امیر الموٴمنین کیا آپ کبھی ایسے راستہ سے گزرے ہیں جس کے دونوں طرف کانٹے دار جھاڑیاں ہوں۔ حضرت عمر نے کہا کہ ہاں۔ انھوں نے پوچھا کہ پھر ایسے موقع پر آپ نے کیا کیا۔ حضرت عمر نے کہا کہ میں نے اپنے دامن سمیٹ لیے اور بچتا ہوا نکل گیا۔ انھوں نے کہا کہ یہی تقویٰ ہے: ذٰلِکَ التَّقْوَیٰ (تفسیر ابن کثیر، جلد 1، صفحہ 75)۔ حضرت عمر کا یہی طریقہ عام معاملات میں بھی تھا۔ وہ اونٹ والوں سے اونٹ کی بات پوچھتے تھے اور بکری والوں سے بکری کی بات۔ اسی طرح ان کو جو شخص بھی ملتا اس سے اسی کے میدان کی بات دریافت کرتے ۔ اس طرح وہ ہر ایک سے اس کے معلومات کے دائرے میں سوالات کرتے اور اس سے نئی نئی باتیں دریافت کرتے۔ موجودہ زمانے میں اس کو اسپرت آف انکوائری کہا جاتا ہے۔ سائنسی نقطہ نظر سے اس کی بے حد اہمیت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہی لوگ زیادہ بڑے عالم بنتے ہیں جن کے اندر یہ تجسسانہ اسپرت موجود ہو۔ اس قسم کی اسپرت ہر ایک کے لیے انتہائی ضروری ہے، خواہ وہ ایک عام آدمی ہو یا کوئی اونچی سطح کا آدمی۔ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ سننے سے زیادہ سنانے کے شوقین ہوتے ہیں۔ مگر اس قسم کا مزاج علم کی ترقی میں ایک مستقل رکاوٹ ہے ایسے لوگ کبھی زیادہ بڑی علمی ترقی حاصل نہیں کر سکتے۔ جب آپ بولتے ہیں تو آپ وہیں رہتے ہیں جہاں کہ آپ ہیں۔ مگر جب آپ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page