تعمیر حیات
Urdu book, p. 104
By Maulana Wahiduddin Khan
سنتے ہیں تو آپ اپنے علم میں اضافہ کرتے ہیں صحیح علمی مزاج یہ ہے کہ آدمی بولنے سے زیادہ سنے، وہ جب بھی کسی سے ملے تو سوالات کر کے اس سے معلومات لینے کی کوشش کرے۔ معلومات کا خزانہ ہر طرف اور ہر جگہ موجود ہے۔ مگر وہ صرف اس شخص کے حصے میں آتا ہے جو اس کو لینے کے آداب کو جانتا ہو۔ تاریخی موڑ پر امریکہ میں اٹھارویں صدی میں ایک جنگ پیش آئی جس کو وار آف انڈپنڈنس (1775-83) کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد امریکہ میں ایسے لیڈر ابھرے جنھوں نے جنگ کے بجائے امن کی حمایت کی۔ انھیں میں سے دوسرا امریکی صدر جان ایڈمس ہے جس کو غیر سیاسی سیاست داں (non-political politician) کہا جاتا ہے۔ 1783 میں پیرس معاہدہ کے تحت جب برطانیہ نے اس کو آزادی دے دی تو اس کے بعد امریکہ نے اپنا راستہ بدل دیا۔ اب سارا زور تعلیم، سائنسی ریسرچ، انڈسٹری، سٹی پلاننگ اور نئی نسل کی کردار سازی پر دیا جانے لگا۔ یہی واقعہ جاپان میں بھی پیش آیا جس کو وہ لوگ عمل معکوس (reverse course) کا نام دیتے ہیں۔ دوسری عالمی جنگ تک جاپان عسکریت کے راستہ پر چل رہا تھا۔ مگر دوسری عالمی جنگ کے تجربات کے بعد اس نے اپنا راستہ بدل دیا۔ اب اس نے جنگ کے طریق کو مکمل طور پر چھوڑ دیا۔ اس کے بجائے اس نے تعلیم کے میدان میں اپنی تمام توجہ موڑ دی۔ سائنس اور ٹکنالوجی میں ترقی کو اپنا نشانہ بنا لیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ چالیس سال میں تاریخ بدل گئی۔ عمل معکوس کا یہ مرحلہ ہر قوم کے لیے پیش آتا ہے۔ جو لوگ ایسا کریں وہ کامیاب رہتے ہیں۔ اور جو لوگ ایسا نہ کرسکیں وہ ناکام ہو کر رہ جاتے ہیں۔ امریکہ اور جاپان دونوں اس عمل معکوس کو اختیار کرنے کی مثال ہیں۔ دوسری طرف انڈیا ہے۔ آزادی کے بعد مہاتما

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader