Urdu book · تعمیر حیات

تعمیر حیات

Urdu book, p. 105

By Maulana Wahiduddin Khan

گاندھی نے انڈیا کو اسی راستہ پر چلانا چاہا تھا۔ مگر انڈیا یا عمل معکوس کے اس رخ پر نہ چل سکا، اسی لیے اس کو ترقی بھی حاصل نہ ہوسکی۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے لیے بھی اب یہی وقت آ گیا ہے۔ وہ لمبی مدت سے اغیار سے شاکی ہو کر ان کے ساتھ بے فائدہ مقابلہ آرائی کی پالیسی اختیار کیے ہوئے تھے۔ اب ضرورت ہے کہ اس خارجی پالیسی کو ترک کر دیا جائے اور اس کے بجائے داخلی پالیسی اختیار کی جائے۔ یعنی اپنی کوتاہیوں کا اقرار کرتے ہوئے خود اپنی تعمیر میں ساری توجہ لگادی جائے۔ مسلمانوں کے مسائل کا یہی واحد حل ہے، اور اس کو انھیں ہمہ تن اختیار کر لینا ہے۔ ذاتی ذمہ داری دوسری عالمی جنگ (1939-45) کے دوران سرونسٹن چرچل برطانیہ کے وزیراعظم تھے۔ وہ عام طور پر تشدد پسند لیڈر کی حیثیت سے مشہور ہیں۔ ایک بوڑھے برطانی شہری نے مجھے بتایا کہ چرچل نے اس جنگ کے زمانے میں برطانی قوم کو جوماٹو دیا وہ یہ تھا سب کچھ میرے اپنے اوپر منحصر ہے: It all depends on me. یہ ایک بہترین ماٹو ہے۔ یہ جنگ اور امن دونوں حالتوں میں یکساں طور پر مفید ہے۔ میرے بھائی عبدالمحیط خاں (انجینئر) نے بتایا کہ ایک بار وہ چندی گڑھ کے ایک ٹریننگ کیمپ میں شریک ہوئے۔ یہ کیمپ پالی ٹکنیک کے پرنسپلوں کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ اور اس میں لکچر دینے کے لیے ایک انگریز پروفیسر کو بلایا گیا تھا۔ اس کا افتتاح ایک ہندوستانی منسٹر کو کرنا تھا۔ منسٹر جب مائک پر کھڑے ہوئے تو اچانک بجلی چلی گئی اور لاؤڈ اسپیکر نے کام کرنا بند کر دیا۔ وہاں متبادل انتظام کے طور پر بیٹری نہ تھی۔ البتہ کالج کے ورکشاپ میں بیٹری موجود تھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page