Urdu book · تعمیر حیات

تعمیر حیات

Urdu book, p. 11

By Maulana Wahiduddin Khan

پھنسائے اور چاہے تو اپنے آپ کو ان سے محفوظ رکھے۔ یہ معاملہ فرد کے لیے بھی ہے اور قوموں اور حکومتوں کے لیے بھی۔ مجھے ایک صاحب کا قصہ معلوم ہے۔ انھوں نے تجارت کی اور اس میں کافی کامیاب رہے۔ ان کا ایک رشتہ دار جس نے انھیں کے ساتھ تجارت شروع کی تھی وہ کامیاب نہ ہو سکا۔ اس کو اس کامیاب تاجر سے حسد ہو گیا۔ ایک شخص نے مذکورہ کامیاب تاجر کو بتایا کہ آپ کا فلاں رشتہ دار آپ کے خلاف ایسا اور ایسا کہتا ہے۔ تاجر نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس نے کئی بار اپنی بات کو دہرایا۔ آخر میں اس نے کہا کہ میں آپ کو بار بار بتا رہا ہوں کہ آپ کا فلاں رشتہ دار آپ کے خلاف بری بری باتیں پھیلا رہا ہے مگر آپ اس کا کوئی جواب ہی نہیں دیتے۔ مذکورہ تاجر نے نہایت اطمینان سے کہا: یہ ان کا پرابلم ہے، میرا پرابلم تو نہیں۔ مذکورہ تاجر نے اپنے حاسد رشتہ دار کی بات کو سنا اور ٹال دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں کے درمیان مزید کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔ بات لفظوں پر ختم ہو گئی۔ اس کے برعکس، اگر یہ تاجر مذکورہ رشتہ دار کی بات پر بھڑک اٹھتا تو دونوں کے درمیان ایسی لڑائی چھڑ جاتی جس میں دونوں کی تباہی یقینی تھی۔ چوتھا نکتہ 1947 سے پہلے کے ہندوستان کا واقعہ ہے۔ ایک گاؤں میں دو زمیندار رہتے تھے۔ ان میں سے ایک مذہبی تھا اور داڑھی رکھتا تھا۔ اور دوسرے کے چہرے پر داڑھی نہیں تھی۔ بے داڑھی والے زمیندار نے ایک بار داڑھی والے زمیندار کے یہاں شیرینی کا تحفہ بھیجا۔ داڑھی والے زمیندار نے اس کو یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ میں داڑھی منڈوں کا تحفہ قبول نہیں کرتا۔ بے داڑھی والا زمیندار اس کو برداشت نہ کر سکا۔ اس نے تحفہ کی واپسی کو اپنی توہین سمجھا۔ اس کے اندر زبردست انتقام بھڑک اٹھا۔ اس کے بعد دونوں کے درمیان لڑائی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page