Urdu book · تعمیر حیات

تعمیر حیات

Urdu book, p. 111

By Maulana Wahiduddin Khan

لوگوں کے دلوں میں نفرت اور جھنجلاہٹ کے جذبات بھرے ہوئے ہیں۔ ایسی قوم کے بارے میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اس کے پاس روشنی ہے مگر وہ آنکھ سے محروم ہے۔ یہ لوگ بھی کامیابی کے ساتھ زندگی کا راستہ طے نہیں کر سکتے کسی نہ کسی موڑ پر وہ ٹکرا کر تباہ ہو جائیں گے۔ کسی قوم کی ترقی کے معاملے میں یہی جڑ کی بات ہے۔ جو لوگ قوم کو اٹھانا چاہتے ہیں، انھیں چاہیے کہ وہ یہاں محنت کریں، کسی اور میدان میں تقریریں کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ یہی اس دنیا میں کامیابی کا واحد راز ہے۔ ایک فرق 15 اگست 1995 کو دہلی میں ایک میٹنگ میں مسٹر راج موہن گاندھی (پیدائش 1935) سے ملاقات ہوئی۔ وہ مہاتما گاندھی کے پوتے ہیں اور اب ان کی عمر 60 سال ہو چکی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ایک بار وہ جاپان کی ایک کانفرنس میں شریک تھے۔ وہاں ایک جاپانی ڈیلی گیٹ نے ان سے کہا کہ میں پچھلے پندرہ سال سے مختلف مقامات پر ہونے والی کانفرنسوں میں شریک رہا ہوں۔ میں نے پایا کہ کسی انٹرنیشنل کانفرنس میں، جہاں جاپانی اور ہندوستانی دونوں شرکت کر رہے ہوں، وہاں صدر کو ہمیشہ دو مشکل پیش آتی ہے۔ ایک، شرمیلے جاپانی کو اس پر آمادہ کرنا کہ وہ بولے ۔ دوسرے، ہندوستانی ڈیلی گیٹ کو اس پر آمادہ کرنا کہ وہ اپنی تقریر کو تمام کرے: The chairperson of an international seminar has two difficulties: (1) To persuade the shy Japanese to speak. (2) To persuade the Indian delegate to complete his speech.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page