تعمیر حیات
Urdu book, p. 117
By Maulana Wahiduddin Khan
منصوبہ حال میں بنایا جاتا ہے مگر اس کا نتیجہ ہمیشہ مستقبل میں نکلتا ہے۔ منصوبہ بندی حقیقتاً نام ہی مستقبل کی منصوبہ بندی کا ہے۔ اس قسم کا کامیاب منصوبہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ وقتی جوش کے بجائے سوچ سے کام لیا جائے، جذباتیت کے بجائے حقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ حال کے مسائل کو اہمیت دینے سے زیادہ مستقبل میں پیش آنے والے حالات کا لحاظ کیا جائے۔ پُر عافیت زندگی ایک عالم کے حلقہ میں ایک شخص تھا جو ان سے بہت زیادہ قریب تھا۔ وہ اس کو دوسروں سے زیادہ مانتے تھے، اور دوسروں سے زیادہ ان پر بھروسہ کرتے تھے۔ عالم نے اس شخص کو ایک کاروبار پر لگادیا۔ اس میں اسے کامیابی ہوئی اور وہ پیسہ والا آدمی بن گیا۔ اس کے بعد ایک روز وہ مذکورہ عالم کی صحبت میں تھا۔ کسی بات پر عالم نے اس کو سختی سے منع کیا۔ وہ شخص بگڑ گیا۔ اس نے سخت انداز میں جواب دیا اور اٹھ کر عالم کے پاس سے چلا گیا۔ چند دن کے بعد اس کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو وہ دوبارہ آیا اور عالم سے معذرت کرنے لگا۔ عالم نے جواب دیا کہ تم کو معذرت کرنے کی ضرورت نہیں۔ میں پہلے ہی اس معاملے کو اس طرح ختم کر چکا ہوں کہ اب تک میں تم کو اپنے معیار سے دیکھتا تھا، اب میں تم کو تمھارے معیار سے دیکھوں گا۔ اس دنیا میں عافیت کی زندگی گزارنے کا یہی واحد کامیاب اصول ہے ۔ ایک لفظ میں اس کا خلاصہ یہ ہے کہ۔ لوگوں سے خود ان کے لحاظ سے معاملہ کرو، نہ کہ اپنے لحاظ سے۔ ایک آدمی زیادہ امید پر پورا نہیں اترتا تو اس سے اپنی امید کو کم کر لیجیے۔ ایک آدمی آپ کی پابندی کو قبول نہیں کرتا تو اس سے پابندی کا مطالبہ کرنا چھوڑ دیجیے۔ ایک شخص آپ کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader