Urdu book · تعمیر حیات

تعمیر حیات

Urdu book, p. 118

By Maulana Wahiduddin Khan

خاص آدمی بننے کے لیے تیار نہیں ہے تو اس کو عام آدمیوں میں شمار کرنا شروع کر دیجیے۔ ایک آدمی پر آپ کا قابو نہیں چلتا تو اس سے موافقت کی روش اختیار کر لیجیے۔ ایک آدمی کو دینے کے لیے تیار نہیں ہے تو اس سے اپنی توقعات کو ختم کر دیجیے۔ ایک آدمی اس خانہ کا اہل نظر نہیں آیا جہاں آپ نے اس کو رکھا تھا تو آپ سادہ طور پر صرف یہ کیجیے کہ ایک خانہ سے نکال کر اس کو دوسرے خانہ میں ڈال دیجیے۔ زندگی خارجی حقیقتوں سے موافقت کرنے کا نام ہے۔ سورج اور ہوا اور بارش اور پہاڑ اور سمندر سے موافقت کر کے ہی ہم اس دنیا میں زندگی گزارتے ہیں۔ یہی اصول انسانوں کے بارے میں بھی ہے۔ آپ انسانوں سے موافقت کے اصول پر معاملہ کیجیے، اور دنیا آپ کے لیے خوشی اور عافیت کا گہوارہ بن جائے گی۔ فرضی اندیشے 21 جولائی 1996 کو بنگلور (سبرائین پورہ) میں ایک عبرت انگیز واقعہ ہوا۔ ایک لڑکا جی ہریش بابو ویویکا نند ہائر پرائمری اسکول میں فورتھ اسٹینڈرڈ (چوتھے درجہ) کا طالب علم تھا۔ اس نے اپنے گھر کے ایک کمرہ میں اپنے کو بند کر کے اپنے اوپر مٹی کا تیل (کیروسین) انڈیل لیا اور اپنے کپڑوں کو آگ لگالی۔ اس طرح وہ جل کر مر گیا۔ اخباری رپورٹر کے الفاظ میں، اس کا سبب، امتحان میں ناکام ہو جانے کا اندیشہ تھا: Fear of failure in examinations. لڑکے کے باپ جی گوپی ناتھ نے بتایا کہ ہریش حسب معمول اپنے اسکول سے واپس آیا۔ اس نے اپنی ماں لیلا سے کہا کہ اس کی ٹیچر اس سے ملنا چاہتی ہے۔ اس کے مطابق لیلا اسکول چلی گئی۔ اس کے بعد ہریش نے کچن میں داخل ہو کر دروازہ بند کر لیا اور اپنے آپ کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page