Urdu book · تعمیر حیات

تعمیر حیات

Urdu book, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

شروع ہوگئی۔ ایک دوسرے کا کھیت کاٹنا، ایک دوسرے کے آدمی کو قتل کرنا، ایک دوسرے کے خلاف مقدمے چلانا، ایک دوسرے کو بدنام کرنا۔ اس طرح کی منفی کارروائیاں 25 سال تک جاری رہیں۔ لڑائی کا یہ سلسلہ صرف اس وقت بند ہوا جب کہ دونوں کے گھر کے زیور تک بک گئے۔ دونوں میں یہ سکت ہی نہ رہی کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف مزید کوئی کارروائی کر سکیں۔ انسانی سماج میں زیادہ تر جھگڑے الفاظ سے شروع ہوتے ہیں۔ لوگ مخالفانہ الفاظ سن کر بھڑک اٹھتے ہیں۔ اس کے بعد ان کی سوچ انتقام کے رخ پر چل پڑتی ہے۔ اور اس کے بعد وہ تمام صورتیں پیش آتی ہیں جن کو آپس کی لڑائی کہا جاتا ہے۔ منفی عمل ہمیشہ منفی سوچ کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ منفی حالات میں بھی مثبت سوچ کو قائم رکھا جائے۔ منفی کارروائی کا جواب بھی مثبت انداز میں دیا جائے۔ اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ جب بھی آپ کسی ناخوشگوار بات کو سنیں تو یہ سوچیں کہ کیا یہ محض الفاظ کا معاملہ ہے یا وہ حقیقی معنوں میں آپ کو کوئی نقصان پہنچانے والا ہے۔ اگر اس سے کسی حقیقی نقصان کا اندیشہ ہو تو اس کا تدارک کیجیے۔ ورنہ سادہ طور پر صرف یہ کیجیے کہ اس کو نظرانداز کر دیجیے۔ پانچواں نکتہ اس سلسلے میں ایک دلچسپ مثال یہ ہے کہ انگریز انیسویں صدی میں عراق میں داخل ہو چکے تھے۔ 1917 میں انھوں نے بغداد کو فتح کیا۔ اس کے بعد وہاں ایک انگریز قونسلر (councillor) رہنے لگا۔ انگریز قونسلر جب شروع میں بغداد میں آیا تو صبح کے وقت اس کو محسوس ہوا کہ اس کی رہائش گاہ کے باہر عراقیوں کے شور کی آواز آ رہی ہے۔ انگریز قونسلر نے فوراً اپنے مقامی سیکریٹری کو بلایا۔ اس نے پوچھا کہ یہ کیسا شور ہے۔ سیکریٹری نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page