Urdu book · تعمیر حیات

تعمیر حیات

Urdu book, p. 124

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے بعد آپ دیکھیں گے آپ کو روزگار تلاش کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس کے بعد روزگار خود آپ کو تلاش کرے گا۔ حتیٰ کہ یہ حال ہو جائے گا کہ آپ آگے ہوں گے اور روزگار آپ کے پیچھے ۔ جب بھی آپ دنیا میں کوئی جگہ چاہیں اور دنیا والے آپ کو وہ جگہ دینے پر تیار نہ ہوں تو دوسروں کی شکایت نہ کیجیے بلکہ، یہ یقین کر لیجیے کہ آپ کے اندر کوئی کمی ہے جس کی بنا پر آپ دوسروں کے لیے قابل قبول نہ ہو سکے۔ اور پھر اس کی کو دور کرنے میں لگ جائیے ۔ اس کے بعد آپ کو دوسروں سے کوئی شکایت نہ ہوگی۔ امن کی ضرورت 25 جون 1994 کو دہلی میں ایک عرب پروفیسر سے ملاقات ہوئی ۔ گفتگو کے دوران کسی وجہ سے یہ ذکر آیا کہ اگست کے پہلے ہفتہ میں مجھے لندن جانا ہے، انھوں نے پوچھا کہ کس لیے۔ میں نے کہا کہ ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے لیے۔ انھوں نے دوبارہ پوچھا کہ اس کا نفرنس کا موضوع بحث کیا ہوگا۔ میں نے کہا کہ امن (سلام)۔ انھوں نے فوراً کہا: السَّلَامُ بَيْنَ مَنْ - بَيْنَ الْقَوِيِّ وَالضَّعِيفِ أَوْ بَيْنَ الظَّالِمِ وَالْمَظْلُومِ - یعنی، امن کن لوگوں کے درمیان، کیا طاقتور اور کمزور کے درمیان یا ظالم اور مظلوم کے درمیان ۔ میں نے کہا کہ اصل سوال یہ نہیں کہ امن کن لوگوں کے درمیان۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ امن کس مقصد کے لیے (لَيْسَتِ الْقَضِيَّةُ، السَّلَامُ بَيْنَ مَنْ - وَإِنَّمَا الْقَضِيَّةُ هِيَ، السَّلَامُ لِأَي غَرَضِ ) ۔ آج کل کے مسلم دانشوروں کے ذہن پر یہ چھایا ہوا ہے کہ موجودہ زمانے میں مسلمان ہر جگہ زیر دست ہیں اور غیر مسلم قومیں ہر جگہ ان پر غالب ہیں ۔ ایسی حالت میں جو امن ہوگا وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page