تعمیر حیات
Urdu book, p. 125
By Maulana Wahiduddin Khan
دو نامساوی فریقوں کے درمیان ہوگا۔ یہ گویا فریق ثانی کے مقابلے میں اپنی موجودہ حیثیت کو تسلیم کر لینا ہے۔ پھر ایسا کھلا ہوا گھاٹے کا معاملہ ہم کیوں کر سکتے ہیں۔ مگر یہ سوچ کا غلط رخ ہے۔ صحیح رخ یہ ہے کہ ہم سوچیں کہ آج ہم کو وقفہ امن کی ضرورت ہے۔ ہم سو برس سے بھی زیادہ عرصہ سے فریق ثانی سے ٹکراؤ کر رہے ہیں۔ ہمارا یہ ٹکراؤ، غیر معمولی قربانیوں کے باوجود، صرف ہماری مزید تباہی کا باعث بنا ہوا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس مقابلے میں وہ ہتھیار غیر استعمال شدہ پڑا ہوا ہے جو ہمارا سب سے زیادہ طاقت ور ہتھیار تھا، یعنی اسلام کی برتر آئیڈیالوجی۔ مگر اس ہتھیار کے استعمال کے لیے معتدل فضا درکار ہے، اور معتدل فضا صرف امن کے حالات میں قائم ہوتی ہے۔ داعی قوم اور مدعو قوم کے درمیان معتدل حالات قائم کرنا اسلام کے دعوتی عمل کو زندہ ہونے کا موقع دینا ہے، اور جب اسلام کا دعوتی عمل موافق فضا میں جاری ہو جائے تو کوئی چیز نہیں جو اسلام کو غلبہ کی منزل تک پہنچنے سے روک سکے۔ خدمت میں عزت پٹنہ کے جناب محمد منہاج اختر، ایم اے (پیدائش 1979) سے یکم جنوری 1997 کو ملاقات ہوئی۔ وہ ایک تاجر ہیں اور پٹنہ میں رہتے ہیں (654462 .Tel)۔ انھوں نے بہار کا ایک واقعہ بتایا۔ ایک باپ کے دو لڑکے تھے۔ ایک لڑکے نے تعلیم کی طرف رخ کیا۔ محنت کرتے کرتے وہ ڈاکٹر بن گیا۔ اس کے بعد اس نے پریکٹس کر لی اور الگ گھر لے کر اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہنے لگا۔ دوسرا لڑکا تعلیم حاصل نہ کر سکا۔ وہ جاہل رہ گیا۔ آخر کار لوگوں کے مشورہ سے اس نے بستی کے اندر حجامت کی دکان کرلی۔ ڈاکٹر بیٹے کو آبادی کے اندر معزز حیثیت حاصل ہوگئی۔ اس کے مقابلے میں حجام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader