Urdu book · تعمیر حیات

تعمیر حیات

Urdu book, p. 126

By Maulana Wahiduddin Khan

بیٹا لوگوں کے درمیان ایک غیر معزز فرد بن کر رہ گیا۔ کچھ لوگوں نے ان کے والد سے کہا کہ حمام بیٹا آپ کے ساتھ رہتا ہے۔ اس بناء پر آپ کو اکثر لوگ فلاں حمام کا والد کہنے لگے ہیں۔ آپ اپنے اس بیٹے کو گھر سے نکال دیجیے۔ اس کے بعد لوگ خود ہی آپ کو ” ڈاکٹر صاحب کے والد “ کہنا شروع کردیں گے۔ اور پھر آپ کو سماج کے اندر با عزت جگہ حاصل ہو جائے گی۔ مذکورہ شخص نے جواب دیا۔ میں خود اس کو پسند نہیں کرتا کہ مجھ کو حمام کا والد کہا جائے اور یقیناً اب تک میں اس کو گھر سے نکال چکا ہوتا۔ مگر مجبوری یہ ہے کہ گھر کا خرچ وہی چلاتا ہے ۔ اگر میں اس کو گھر سے نکال دوں تو گھر کا کام چلنا ہی مشکل ہو جائے گا۔ یہ خدمت کا کرشمہ ہے۔ خدمت (service) اپنے اندر معجزاتی تاثیر رکھتی ہے۔ آپ خواہ کچھ بھی ہوں، اگر آپ لوگوں کی خدمت کرنے لگیں، لوگوں کی حاجتوں میں ان کے کام آئیں، ماحول کے اندر آپ کی تصویر یہ بن جائے کہ آپ سے لوگوں کی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں تو آپ کسی مزید کوشش کے بغیر خود لوگوں کے درمیان عزت اور برتری کا مقام حاصل کرلیں گے۔ خدمت کرنا لوگوں کا دل جیتنا ہے۔ اور جو آدمی لوگوں کا دل جیت لے وہ سب کچھ پالیتا ہے، اس کے بعد کوئی اور چیز پانے کے لیے باقی نہیں رہتی۔ فتح کا راز جناب جمیل احمد صاحب (مدراس) نے بتایا کہ وانمباڑی کے ایک مسلمان تاجر حاجی محمد ابراہیم صاحب نے 1910 میں یہاں ایک اسکول قائم کیا جو اب ترقی پا کر کالج بن چکا ہے اور کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔ حاجی محمد ابراہیم صاحب نے اپنے آپ کو اس اسکول کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ اس وقت مالیات کی سخت کمی تھی چنانچہ وہ روزانہ اپنے گھر سے اس طرح نکلتے کہ ان کے ہاتھ میں ایک کشکول ہوتا تھا وہ لوگوں سے مل مل کر اسکول کے لیے چندہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page