Urdu book · تعمیر حیات

فتح کا راز

Urdu book, p. 127

By Maulana Wahiduddin Khan

مانگتے۔ کوئی تھوڑا دیتا اور کوئی زیادہ۔ وہ سارا پیسہ اس کشکول سے ڈالتے رہتے اور شام کو واپس آ کر اس کو اسکول کے حساب میں جمع کر دیتے ۔ ایک دن وہ وانمباڑی کے ایک دولت مند تاجر کے پاس پہنچے ۔ حسب معمول ان کا کشکول ان کے ہاتھ میں تھا۔ انھوں نے مذکورہ مسلمان تاجر سے اسکول کے لیے چندہ مانگا۔ تاجر نے چندہ نہیں دیا۔ اس کے بجائے وہ محمد ابراہیم صاحب کو سخت سست کہتے رہے کہ تم اپنا کاروبار خراب کر کے اسکول کے پیچھے دوڑ رہے ہو۔ محمد ابراہیم صاحب مذکورہ تاجر کی بات کو نہایت خاموشی کے ساتھ سنتے رہے۔ انھوں نے ان کی باتوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔ آخر میں محمد ابراہیم صاحب نے ان سے کہا: ہر آدمی جو کچھ دیتا ہے اُس کو میں اس کشکول میں ڈال لیتا ہوں۔ آپ نے جو کچھ دیا اس کو بھی میں نے کشکول میں ڈال دیا یہ کہہ کر انھوں نے مذکورہ تاجر کو سلام کیا اور اطمینان کے ساتھ واپس آگئے ۔ یہ سادہ سا جملہ مذکورہ تاجر کے لیے اتنا سخت ثابت ہوا کہ وہ رات بھر سو نہیں سکے۔ اگلے دن اور رات بھی ان کی بے چینی بدستور جاری رہی، یہاں تک کہ تیسرے دن انھوں نے حاجی محمد ابراہیم صاحب کو بلایا۔ ان سے اپنے رویہ کی معافی مانگی۔ اس کے بعد انھوں نے گھر کے اندر سے اشرفیاں منگائیں اور ان کا کشکول اشرفیوں سے بھر دیا محمد ابراہیم صاحب اگر مذکورہ تاجر کی بات پر مشتعل ہو جاتے تو بے فائدہ ٹکراؤ کے سوا اس کا کوئی نتیجہ نہ نکلتا مگر جب انھوں نے منفی رویہ کا جواب مثبت رویہ سے دیا تو صرف الفاظ ہی ان کی جیت کے لیے کافی ہو گئے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page