قناعت کیجیے
Urdu book, p. 128
By Maulana Wahiduddin Khan
قناعت کیجیے بنگلہ دیش کے سابق فوجی صدر جنرل محمد ارشاد (پیدائش 1930) ایک فوجی بغاو ت کے ذریعہ اقتدار میں آئے۔ اس کے بعد دوسری فوجی بغاوت ہوئی۔ جس کے تحت قائم شدہ حکومت نے ان پر بدعنوانی کے کئی مقدمات چلائے۔ پہلے غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں تیرہ برس قید کی سزا ہوئی تھی، مالی بدعنوانی کے تحت انھیں مزید سات سال کی سزا کا حکم سنایا گیا۔ لاہور کے روزنامہ نوائے وقت (8 جون 1993) میں اس سلسلے میں جو خبر چھپی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے : جنرل محمد ارشاد اور ان کی اہلیہ روشن کو ڈھا کہ کی خصوصی عدالت نے زمینوں کے لین دین کے سلسلے میں بدعنوانیوں کا مرتکب قرار دے کر 77 برس کی قید کی سزا سنائی۔ جنرل ارشاد نے کئی افراد کو ڈھا کہ کے قیمتی علاقہ میں زمینیں دلوائیں اور پھر ان کا کچھ حصہ ان افراد سے سستے داموں میں خرید کر اس زمین پر "جینتا ٹاور" کے نام سے ایک عمارت تعمیر کروائی اور اس پر خرچ ہونے والی رقم کا بڑا حصہ انھوں نے خود اپنی جانب سے ادا کیا۔ چوں کہ یہ رقم ان کی آمدنی سے زیادہ تھی، عدالت نے مذکورہ تمام اراضی اور جنرل ارشاد کی عمارت کو بحق سرکار ضبط کا حکم دے دیا ہے اب وہ اور ان کی بیوی دونوں جیل میں ہیں۔ اس طرح کے واقعات بتاتے ہیں کہ انسان کی زندگی میں اس چیز کو کتنی زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ جس کو دینی اصطلاح میں قناعت کہا جاتا ہے۔ جنرل ارشاد کا یہ افسوس ناک انجام اس لیے ہوا کہ وہ قناعت نہ کر سکے۔ انھوں نے جنرل کے عہدہ پر قناعت نہ کر کے صدر کے عہدے پر پہنچنا چاہا۔ انھوں نے چھوٹی زمین پر قناعت نہ کر کے بڑی زمین حاصل کرنے کی کوشش کی۔ انھوں نے ایک منزلہ مکان پر قناعت نہ کر کے تیرہ منزلہ مکان کا مالک بننا چاہا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader