Urdu book · تعمیر حیات

تعمیر حیات

Urdu book, p. 129

By Maulana Wahiduddin Khan

انھیں جو کچھ فطری طور پر ملا تھا، اگر وہ اس پر قناعت کرتے تو وہ اطمینان کے ساتھ ایک پر مسرت زندگی گزار سکتے تھے، مگر وہ ملے ہوئے پر قناعت نہ کر کے نہ ملے ہوئے پر دوڑے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مزید کی حرص میں وہ ملے ہوئے سے بھی محروم ہو کر رہ گئے۔ زندگی کے مسائل کا حل قناعت ہے، نہ کہ حرص۔ اعراض کا فائدہ پونہ کے ایک سفر میں وہاں کے لوگوں نے بتایا کہ 22 ستمبر 1991 کو پونہ میں گنیش چتر تھی کا جلوس نکلنے والا تھا۔ اسی دن 12 ربیع الاول کی تاریخ بھی تھی، اور اس کی نسبت سے مسلمان اپنا میلاد النبی کا جلوس نکالنا چاہتے تھے۔ اگر دونوں جلوس ایک ہی دن نکلتا تو یقینی تھا کہ دونوں میں ٹکراؤ ہو اور فرقہ وارانہ فساد کی صورت پیدا ہو جائے۔ اور پھر جشن کا دن شہر کے لیے غم کا دن بن جائے۔ پونہ کی سیرت کمیٹی کی دانش مندی سے یہ خطرہ ٹل گیا۔ انھوں نے ایک اجتماع کر کے مشورہ کیا کہ ایسی حالت میں کیا کیا جائے ۔ اتفاق رائے سے فیصلہ ہوا کہ ہم لوگ اس معاملے میں اعراض کا طریقہ اختیار کریں ۔ چنانچہ انھوں نے اپنی تاریخ بدل دی۔ انھوں نے میلاد النبی کا جلوس چند دن کی تاخیر کے ساتھ 27 ستمبر کو نکالا۔ اس طرح ہندو جلوس اور مسلمان جلوس دونوں پرامن طور پر دو الگ الگ تاریخوں میں نکلے اور کسی ٹکراؤ کی نوبت نہیں آئی۔ اس واقعے پر شہر کے تمام لوگ بہت خوش ہوئے۔ اور مسلمانوں کی دانش مندی کو سراہا۔ خاص طور پر پولیس کے لوگوں نے بہت زیادہ خوشی کا اظہار کیا۔ اور مسلمانوں کے اس عمل کی تعریف کی۔ انھوں نے مسلمانوں سے مل کر ان کا شکریہ ادا کیا۔ فساد نہ ہونا پولیس کے لیے ایک ذاتی کارنامہ کی حیثیت رکھتا ہے، اور یقینی طور پر پولیس کے لوگ چاہتے ہیں کہ یہ کارنامہ ان کی فہرست اعمال میں لکھا جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page