تعمیر حیات
Urdu book, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
جواب دیا کہ یہ مسلمانوں کی صبح کی نماز کا وقت ہے اور وہ مسجدوں میں اس کے لیے اذان دے رہے ہیں۔ کونسلر نے دوبارہ پوچھا کہ اس سے برٹش امپائر کو کوئی خطرہ تو نہیں ۔ سیکریٹری نے جواب دیا کہ نہیں، اس میں خطرہ کی کوئی بات نہیں۔ اس کے بعد کونسلر نے کہا کہ پھر وہ جو کر رہے ہیں انھیں کرنے دو۔ اختلافی معاملات میں یہ بہترین پالیسی ہے۔ اگر کوئی شخص آپ کے لیے حقیقی خطرہ بن رہا ہو تو ضرور اس سے مقابلہ کیجیے ۔ اور اس کو روٹنے کی کوشش کیجیے۔ لیکن اگر وہ بات صرف الفاظ کی حد تک ہو تو خواہ آپ کے جذبات کتنا ہی مجروح ہوتے ہوں اس کو نظر انداز کیجیے ۔ جذبات کا مجروح ہونا کوئی نقصان کا مسئلہ نہیں ہے۔ وہ صرف ایک خیالی بات ہے۔ اور خیالی بات پر عملی اقدام کرنا دانش مند آدمی کا کام نہیں۔ چھٹا نکتہ موجودہ دنیا میں کوئی آدمی اکیلا نہیں ہے۔ یہاں ہر آدمی کو دوسرے بہت سے لوگوں کے ساتھ زندگی گزارنا ہوتی ہے، ٹھیک ویسے ہی جیسے سڑک کے اوپر ہر آدمی اپنی گاڑی کو دوسری بہت سی گاڑیوں کے ساتھ چلاتا ہے۔ ایسی حالت میں ردِعمل کی پالیسی کبھی مفید نہیں ہوسکتی۔ اس دنیا میں کامیابی صرف اس شخص کے لیے ہے جو منفی حالات میں مثبت جواب دینا جانے۔ اس معاملے کی ایک دلچسپ مثال یہ ہے کہ سوامی وویکانند (1902-1863) کے ایک مسیحی دوست نے ان کو جانچنا چاہا۔ اس نے سوامی جی کو اپنے گھر پر بلایا۔ وہاں ملاقات کے کمرے میں ایک میز تھی۔ مسیحی دوست نے ہر مذہب کی مقدس کتابیں ایک کے اوپر ایک اس میز پر رکھ دیں۔ اس کی ترتیب یہ تھی کہ سب سے نیچے ہندوؤں کی مذہبی کتاب گیتا تھی اور اس کے اوپر دوسرے مذہبوں کی مقدس کتابیں ۔ سوامی جی جب اس کمرے میں پہنچے تو ان کے مسیحی دوست نے میز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، سوامی جی، میز کے اوپر رکھی ہوئی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader