Urdu book · تعمیر حیات

تعمیر حیات

Urdu book, p. 130

By Maulana Wahiduddin Khan

پونہ کی سیرت کمیٹی نے جب تاریخ کی تبدیلی کا فیصلہ کیا تو اسی وقت انھوں نے اس کی خبر مراٹھی اخباروں میں شائع کرا دی۔ اس طرح پورے مہاراشٹر کے مسلمانوں کو اس کی اطلاع ہوگئی۔ چنانچہ دوسرے جن مقامات پر دونوں جلوس ایک ہی دن نکلنے والے تھے، وہاں بھی اسی طرح مسلمانوں نے اپنے جلوس کی تاریخ کو بدل دیا۔ اس کے نتیجہ میں پورا مہاراشٹر افراد کے نقصان سے بچ گیا۔ فرقہ وارانہ فساد سے بچنے کی سب سے زیادہ کار گر تدبیر یہی اعراض کا طریقہ ہے۔ جہاں بھی لوگوں نے اس تدبیر کو استعمال کیا ہے وہاں فساد نہیں ہوا۔ فساد کے بم کو ناکارہ کرنے کی یہی واحد تدبیر ہے۔ فساد ہمیشہ غصہ کے تحت ہوتا ہے، نہ کہ سازش کے تحت۔ خود کشی کی چھلانگ دہلی کے روز نامہ ہندوستان ٹائمس (17 نومبر 1995) کے پہلے صفحہ پر ایک با تصویر کہانی چھپی ہے۔ یہ ایک مُردے کی کہانی ہے جو زندہ لوگوں کو درد ناک سبق دے رہی ہے۔ دہلی کے مسٹر ایم این ارورا کی 20 سالہ بھتیجی ساریکا ہورا (Sarika Hora) پونہ میں انجینیر نگ کے تیسرے سال کی اسٹوڈنٹ تھی۔ اکتوبر 1995 میں وہ اپنی فیملی کے ساتھ دیوالی منانے کے لیے دہلی آئی۔ 27 اکتوبر کو نظام الدین ریلوے اسٹیشن سے وہ گوا ایکسپریس پر سوار ہوئی تا کہ پونہ پہنچ کر وہ دوبارہ اپنے اکیڈ مک سیشن میں شامل ہو سکے ۔ ریلوے اسٹیشن پر اس کے گھر والوں نے اس کو رخصت کیا۔ وہ اپنے ایک ساتھی طالب علم کے همراه نہایت خوش و خرم اپنی منزل کی طرف جارہی تھی۔ اس ٹرین کے ہر دو ڈبہ کے درمیان اندرونی گزرگاہ بنی ہوئی تھی۔ ٹرین گوالیار اور جھانسی کے درمیان تھی کہ پر شوق لڑکی اٹھی تا کہ ایک کوچ سے دوسری کوچ میں جا سکے ۔ وہ کوچ کی دہلیز (vestibule)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page