تعمیر حیات
Urdu book, p. 131
By Maulana Wahiduddin Khan
میں پہنچی۔ یہاں قاعدہ کے مطابق، دونوں کوچ کے درمیان گزرنے کی پلیٹ ( stepping plate) ہونی چاہیے تھی۔ مگر کسی وجہ سے وہ وہاں موجود نہ تھی۔ لڑکی نے اس کی پروا نہ کی۔ اس نے چاہا کہ قدم بڑھا کر وہ اس کوچ سے اُس کوچ میں پہنچ جائے۔ مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئی۔ اس کا پاؤں اگلی کوچ تک پہنچنے کے بجائے درمیان کی خالی جگہ پر پڑ گیا۔ اچانک وہ تیز دوڑتی ہوئی ریل کے نیچے چلی گئی اور سیکنڈوں میں اس کا جسم ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ یہ صرف ریل کے سفر کی بات نہیں۔ زندگی کے وسیع تر سفر میں بھی بار بار ایسے مواقع آتے ہیں جب کہ ہمیں ایک حالت سے دوسری حالت تک پہنچنے کے لیے کسی گزرنے والی پلیٹ (stepping plate) کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے موقع پر سب سے پہلا کام یہ ہوتا ہے کہ ٹھہر کر دیکھا جائے کہ ہمارے لیے فی الواقع کوئی قابل اعتماد پلیٹ موجود ہے جس سے گزر کر ہم آگے کی طرف جا سکیں۔ ایسی قدم گاہ کی غیر موجودگی میں گزرنے کی کوشش کرنا خودکشی کی چھلانگ لگانا ہے۔ نہ کہ ترقی اور کامیابی کی طرف اپنا سفر طے کرنا۔ کیا کوئی سبق لینے والا ہے جو اس واقع سے سبق لے۔ ایک دن دہلی میں مہروی کے علاقہ میں ایک اسلامی ادارہ مدرسہ اسلامیہ عربیہ فیض القرآن کے نام سے ہے۔ اس کو مولانا محمد طلحہ صاحب اور مولانا بشیر احمد راشد الامینی نے 1992 میں قائم کیا تھا۔ 24 جولائی 1994 کو اس کا پہلا دینی تعلیمی جلسہ ہوا۔ اس کے مہمان خصوصی مولانا محمد صدیق باندوی (1997-1923) تھے۔ اس کی دعوت پر راقم الحروف نے بھی اس میں شرکت کی۔ نظام الدین سے روانہ ہو کر ہم دہلی کے مختلف حصوں سے گزرے۔ جب ہم مہروی میں داخل ہوئے تو قطب مینار پر نظر پڑی جو اس علاقہ کی سب سے بلند عمارت کے طور پر دور دور سے دکھائی دیتا ہے۔ قطب مینار تیرھویں صدی عیسوی میں قطب الدین ایبک نے بنوایا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader