Urdu book · تعمیر حیات

تعمیر حیات

Urdu book, p. 132

By Maulana Wahiduddin Khan

تھا۔ اس کی بابت تاریخ میں یہ الفاظ درج ہیں کہ دہلی کا قطب مینار ابھی تک قطب الدین ایبک کی فتوحات کی یاد دلاتا ہے: The Qutub Minar in Delhi still stands to commemorate his victories. (Encyclopedia Britannica, Vol. 8, p. 362) مگر اس کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ یہ مینار اپنی بلندیوں کے ساتھ اس سے بھی زیادہ بڑی ایک حقیقت کی یادگار ہے۔ اور وہ یہ کہ کامیابی عمل سے ملتی ہے، نہ کہ پیدائش ہے۔ قطب الدین ایبک ابتداء ایک غلام کی حیثیت سے محمد غوری کی ملازمت میں آیا۔ اس کے بعد اپنی ممتاز کارکردگی کی بناء پر اس نے ترقی شروع کی۔ یہاں تک کہ سلطان محمد غوری کے قتل (1206ء) کے بعد وہ اس کا جانشیں بنا۔ اور پھر اپنی حکیمانہ تدبیروں سے وہ دہلی کی سلطنت کا مالک بن گیا۔ اگر چہ وہ زیادہ دنوں تک حکومت نہ کر سکا۔ گھوڑوں کے ایک کھیل میں وہ شدید طور پر زخمی ہو گیا۔ اسی میں 1210ء میں اس کا انتقال ہو گیا۔ اس دنیا میں کامیابی کے امکانات بے شمار ہیں۔ یہاں ایک معمولی انسان بھی بادشاہ کے درجہ تک پہنچ سکتا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ وہ اپنی خدداد صلاحیتوں کو حکیمانہ طور پر استعمال کرے۔ کمال پیدا کیجیے 25 مارچ 1992 کو ملبورن میں ورلڈ کرکٹ کپ کا فائنل مقابلہ تھا۔ پاکستان کی ٹیم نے انگلینڈ کی ٹیم کو ہرا کر ورلڈ کپ جیت لیا۔ پاکستان کی ٹیم کو یہ غیر معمولی کامیابی اس کی ٹیم کے کیپٹن عمران خان کی قیادت کے تحت حاصل ہوئی ۔ اس کے بعد نہ صرف پاکستان بلکہ ساری دنیا سے عمران خان کے لیے مبارک باد کے پیغامات کا سیلاب امڈ پڑا ۔ ٹائمز آف انڈیا (26 مارچ) نے اس خبر کی سرخی ان الفاظ میں قائم کی: Pakistan rule the world with a flawless display.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page