صبر کا کرشمہ
Urdu book, p. 137
By Maulana Wahiduddin Khan
زیادہ تر نو جوان تھے۔ انھوں نے کہا کہ ہم چھت بننے نہیں دیں گے۔ تم اس چھت کو اتارو، ورنہ یہاں خون ہو جائے گا اور تمھاری مسجد بھی باقی نہیں رہے گی۔ ایک طالب علم نے پولیس اسٹیشن جا کر انھیں خبر کر دی۔ اس کے بعد بڑی تعداد میں پولیس آگئی۔ ان میں پولیس افسران بھی تھے۔ پولیس نے موقع کا جائزہ لینے کے بعد کہا کہ یہ تعمیر قانون کے دائرے میں ہو رہی ہے، اس لیے کوئی اس کو روک نہیں سکتا۔ پولیس نے مسلمانوں سے کہا کہ تم لوگ چھت بناؤ، ہم یہاں کھڑے ہوئے ہیں۔ محمود سعید بلالی نے سوچا کہ اگر میں پولیس کے کہنے سے چھت کا کام جاری رکھوں تو یہ پولیس والے یہاں کب تک میری حفاظت کریں گے، آخر کار تو سابقہ انھیں پڑوس کے ہندوؤں سے رہے گا۔ اور وہ چھت تو کیا، مسجد بھی توڑ کر رکھ دیں گے۔ اور کوئی انھیں روک نہ سکے گا۔ بللال صاحب انھیں خیالات میں تھے کہ ہند ومجمع میں سے ایک بوڑھا آدمی آگے آگیا۔ اس نے کہا کہ میاں جی، اس وقت یہ لوگ بہت جوش میں ہیں۔ وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ تم ضد نہ کرو اور اپنی چھت اتاردو۔ بلال صاحب نے فوراً اس کو استعمال کیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ بڑے میاں جس طرح تمھارے بڑے ہیں اسی طرح وہ میرے بھی بڑے ہیں۔ میں ان کی بات مانتا ہوں۔ اور اسی وقت اپنے مزدوروں سے کہہ دیا کہ چھت اتار دو چنانچہ چھت اتاردی گئی۔ اس وقت تک اس چھت پر 25 ہزار روپے خرچ ہو چکے تھے۔ اس واقعے کا علاقہ کے تمام ہندوؤں پر بہت اچھا اثر پڑا۔ سب کے سب مسجد اور مسجد والوں کے ہمدرد بن گئے۔ اب یہاں لاؤڈ اسپیکر کی اذان کے ساتھ پنج وقتہ نماز ہوتی ہے۔ باقاعدہ جمعہ ہوتا ہے۔ اسلامی تعلیم کا ایک مدرسہ چل رہا ہے۔ رمضان میں شاندار تراویح ہوتی ہے۔ وغیرہ۔ مگر ہندوؤں کی طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں، وہ لوگ اکثر کہتے رہتے ہیں کہ آپ کی کوئی ضرورت ہو تو ہم کو بتائیے۔ اگر کوئی ہندو آپ کو پریشان کرے تو فوراً ہم کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader