تعمیر حیات
Urdu book, p. 138
By Maulana Wahiduddin Khan
بتائیے۔ ہم اس سے نمٹ لیں گے۔ 6 دسمبر 1992 کو جب یہ خبر پھیلی کہ اجودھیا کی بابری مسجد توڑ دی گئی۔ ساری دہلی میں تناؤ کی صورت پیدا ہو گئی۔ کئی جگہ ہند ومسلم فسادات بھی ہوئے ۔ اس علاقہ میں بھی تناؤ کی حالت تھی۔ جبکہ اس وقت مسجد میں 23 مسلم بچے موجود تھے۔ محمود سعید بلالی صاحب اس وقت جامع مسجد کے علاقہ میں تھے اور کچھ کر نہیں سکتے تھے۔ مگر پڑوس کے ہندو ان کا بدل بن گئے۔ وہ خود مسجد میں آئے۔ بچوں کو لے جا کر ایک قریبی اسکول میں رکھا۔ ان کے کھانے پینے کا انتظام کیا۔ اور پھر تمام بچوں کو حفاظت کے ساتھ ان کے گھروں تک پہنچایا۔ بلالی صاحب اگر ضد کرتے اور اکڑ دکھاتے تو دوسری طرف بھی ضد اور اکڑ پیدا ہوتی۔ اور پھر فساد برپا ہو جاتا۔ مگر جب انھوں نے نرمی اور تواضع کا انداز اختیار کیا تو دوسری جانب بھی نرمی اور تواضع پیدا ہو گئی۔ اس کے بعد فساد کا ماحول امن کے ماحول میں تبدیل ہو گیا۔ آگ ٹھنڈی ہوگئی جامعہ ملیہ اسلامیہ (نئی دہلی) کے کانفرنس ہال میں 8 فروری 1993 کو ایک سیمینار تھا۔ یہ سیمینار ذاکر حسین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز کے تحت کیا گیا تھا۔ اس کا موضوع تھا: مذہب اور انسان دوستی۔ اس موقع پر جن لوگوں نے تقریریں کیں ان میں سے ایک ڈاکٹر بشمبھر ناتھ پانڈے بھی تھے۔ ڈاکٹر پانڈے نے اپنی تقریر میں کچھ واقعات سنائے ۔ ان میں سے ایک واقعہ یہ تھا کہ بالا گھاٹ ( مدھیہ پردیش) میں 1926 میں ہندوؤں کا ایک جلوس نکالا گیا۔ اس جلوس کی قیادت سوامی ستیہ دیو کر رہے تھے۔ ان لوگوں کا منصوبہ یہ تھا کہ مسلمانوں کو بھڑکا کر شہر میں فرقہ وارانہ فساد کریں۔ یہ جلوس قصد اجمعہ کے دن

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader