Urdu book · تعمیر حیات

تعمیر حیات

Urdu book, p. 139

By Maulana Wahiduddin Khan

نکالا گیا۔ تقریباً دس ہزار ہندوباجا بجاتے ہوئے اور نعرہ لگاتے ہوئے عین جمعہ کی نماز کے وقت مسجد کے سامنے پہنچے۔ اور وہاں ٹھہر کر شور وغل کرنے لگے۔ کرامت حسین صاحب شہر کے ایک معروف سیاسی کارکن تھے۔ ان کو پہلے سے مذکورہ منصوبہ کا حال معلوم ہو گیا تھا۔ چنانچہ وہ اپنے سوساتھیوں کو لے کر پہلے سے اس مسجد میں آگئے تھے۔ انھوں نے پیشگی طور پر اپنے ہر ساتھی کو پھولوں کا ایک ایک ہار دے دیا تھا۔ جب جلوس مسجد کے سامنے آکر ٹھہر گیا تو انھوں نے عام مسلمانوں سے کہا کہ آپ لوگ بالکل خاموش رہیں۔ اس کے بعد کرامت حسین صاحب سوچے سمجھے نقشہ کے مطابق، اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مسجد سے نکل کر سڑک پر آئے۔ ان لوگوں نے جلوس سے نہ روٹ بدلنے کی بات کی اور نہ نعرہ بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ ہم آپ کا سواگت کرتے ہیں۔ یہ کہہ کر وہ جلوس کے سامنے آگئے اور ایک ایک ہندو کو ہار پہنانا شروع کیا۔ اس کے بعد پوری فضا بدل گئی۔ جلوس کے لوگوں کے سر شرم سے جھک گئے۔ ان کے نعرے اپنے آپ بند ہو گئے۔ جو لوگ مارنے مارنے کے ارادہ سے آئے تھے، وہ مسلمانوں سے گلے ملنے لگے۔ دشمنی کا ماحول اچانک دوستی کے ماحول میں تبدیل ہو گیا۔ ہر انسان انسان ہے۔ کوئی انسان جب کسی دوسرے انسان کا دشمن بنتا ہے تو وہ محض وقتی اشتعال کے تحت ہوتا ہے۔ اگر حکمت کے ساتھ اس وقتی آگ کو ٹھنڈا کر دیا جائے تو اس کے بعد انسان اپنی اصل فطرت پر لوٹ آئے گا۔ اور پھر وہی انسان آپ کا دوست بن جائے گا جو وقتی طور پر بظاہر آپ کا دشمن دکھائی دینے لگا تھا۔ تین منٹ سید امتیاز الدین دسروی ایک انجینئر ہیں۔ 1967 میں وہ سروس کے تحت ضلع پونہ کی ایک بستی لولولہ (Lonavla) میں تھے۔ ایک روز جب کہ وہ وہاں کے مسلمانوں کے ساتھ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page